حضرت میرا سوال یہ ہے کہ اگر شوہر اپنے بیوی کو کہے کہ’’ اگر آپ نے فلان بندے سے بات کی تو میری طرف سے آپ کو طلاق ہے ‘‘ تو اس سے طلاق کی کونسی قسم واقع ہوگی ۔
مذکورہ الفاظ (اگر آپ نے فلاں بندے سے بات کی تو میری طرف سے آپکو طلاق ہے) سے ایک طلاقِ رجعی معلق ہو چکی ہے، چنانچہ اگر بیوی نے فلاں بندے سے بات کی تو اسپر ایک طلاقِ رجعی واقع ہو جائیگی، جس کا حکم یہ ہے کہ شوہر کو عدت کے اندر رجوع کا اختیار ہو گا، البتہ اگر شوہر نے عدت میں رجوع نہ کیا، تو عدت گزرنے کے بعد دوبارہ ساتھ رہنے کیلیے باقاعدہ گواہوں کی موجودگی میں نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ تجدیدِ نکاح لازم ہوگا، بہر دو صورت آئندہ کیلیے شوہر کو صرف دو طلاقوں کا اختیار حاصل ہو گا ، اس لئے آئندہ اس معاملے میں خوب احتیاط کی جائے۔
کمافي الفتاوى الهندية:وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق اھ(1/420)۔
وفی الھدایة: وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض " لقوله تعالى: {فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ} [البقرة: 231] من غير فصل ولا بد من قيام العدة لأن الرجعة استدامة الملك ألا ترى أنه سمى إمساكا وهو الإبقاء وإنما يتحقق الاستدامة في العدة لأنه لا ملك بعد انقضائها "(2/254)۔
وفی الدرالمختار: (وفيها) كلها (تنحل) أي تبطل (اليمين) ببطلان التعليق (إذا وجد الشرط مرة إلا في كلما فإنه ينحل بعد الثلاث) لاقتضائها عموم الأفعال اھ(3/352)۔
وفی التاتارخانیة:ان حصل التعلیق بکلمة ان و اذا و اذا ما و متی و متی ما فہذا علی مرة واحدة حتی لوفعلت ذلک الفعل مرة واحدة وقع الطلاق ولو فعلت ذلک مرة اخری لایقع الطلاق اھ(5/54)۔
’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0