قبرستان کی ایسی جگہ جہاں سے قبروں کے نشان مٹ چکے ہوں،مسجد اور مدرسہ بنا سکتے ہیں؟
اگر قبروں کے نشانات مٹ چکے ہوں اور میت کی ہڈیاں وغیرہ بوسیدہ ہوچکی ہوں تو ایسی صورت میں اگر مذکور قبرستان باقاعدہ وقف نہ ہو،بلکہ کسی شخص کی ملکیت ہو تو مالک کی اجازت سے اس پر مسجد اور مدرسہ وغیرہ بنانا جائز ہے،البتہ اگر وہ قبرستان وقف ہو اور اسے فی الحال یا مستقبل میں مردوں کو دفنانے کے لئے استعمال کرنے کی ضرورت ہو تو بلاکسی عذر کے وہاں مسجد یا مدرسہ تعمیر کرنا درست نہیں،جس سے احتراز لازم ہے۔
کمافي رد المحتار: قال في الأحكام: لا بأس بأن يقبر المسلم في مقابر المشركين إذا لم يبق من علاماتهم شيء كما في خزانة الفتاوى، وإن بقي من عظامهم شيء تنبش وترفع الآثار وتتخذ مسجدا، لما روي «أن مسجد النبي - صلى الله عليه وسلم - كان قبل مقبرة المشركين فنبشت» كذا في الواقعات اهـ(2/234)۔
وفی الھندیة: ولو بلی المیت وصار ترابا جاز دفن غیرہ في قبرہ وزرعه والبناء علیه،کذا فی التبیین اھ(1/167)۔
وفیه ایضاً: مقبرة كانت للمشركين أرادوا أن يجعلوها مقبرة للمسلمين فإن كانت آثارهم قد اندرست فلا بأس بذلك، وإن بقيت آثارهم بأن بقي من عظامهم شيءينبش ويقبر ثم يجعل مقبرة للمسلمين؛ لأن موضع مسجد رسول الله - صلى الله عليه وسلم - كان مقبرة للمشركين فنبشت واتخذها مسجدا، كذا في المضمرات.