السلام علیکم! مفتیانِ کرام عام طور پر ہمارے علاقے یعنی چارسدہ کے مضافات میں غروب آفتاب کے ساتھ ہی اذان دی جاتی ہے، اور اسی کو سن کر لوگ ساتھ ہی روزہ افطار کرتے ہیں، میرا سوال یہ ہے کہ اذان کا جواب دینا بھی بہت زیادہ اجر و ثواب کا عمل ہے اور افطار میں جلدی کرنے کی بھی تلقین کی گئی ہے، ان دونوں مسنون اعمال میں رمضان کے اندر کس عمل کو زیادہ ترجیح دی جائے ؟
واضح ہو کہ احادیث مبارکہ میں تعجیل افطار (جلد روزہ کھولنے ) کی ترغیب دی گئی ہے ، اور اذان کا جواب دینے کی بھی ترغیب آئی ہے ، لہذا جب مغرب کی اذان شروع ہو جائے تو فوراً روزہ افطار کر لینا چاہیے ، اور روزہ افطار کرنے کے بعد اذان کاجواب دینا چاہیے، تا کہ دونوں باتوں پر عمل ہو سکے۔
كما في مسند أحمد: عن أبي ذر، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا تزال أمتي بخير ما عجلوا الإفطار، وأخروا السحور» اھ (35/ 241)
وفي صحيح البخاري: عن سهل بن سعد: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: «لا يزال الناس بخير ما عجلوا الفطر» اھ(3/ 36)
وفي سنن الترمذي: عن أبي سعيد قال قال رسول الله الله إذا سمعتم النداء فقولوا مثل ما يقول المؤذن اھ (1/284)
وفي مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح: (ما عجلوا الفطر) أي ما داموا على هذه السنة. قال السندي: أي مدة تعجيلهم "فما" ظرفية والمراد ما لم يؤخروا عن أول وقته بعد تحقق الوقت -انتهى.قال النووي: معناه لا يزال أمر الأمة منتظماً وهم بخير ماداموا محافظين على هذه السنة اھ (6/456)
وفيه أيضا: وعنه، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ((قال الله تعالى أحب عبادي إلي أعجلهم فطراً)). (6/470)
وتحت قوله: (أحب عبادي إلي أعجلهم فطراً) أي أكثرهم تعجيلاً في الإفطار وأسرعهم مبادرة إلى الفطر بعد تحقق غروب الشمس اھ(6/ 470)