السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
ایمازون پر بزنس کے جو طریقے ہیں،ان میں ایک (FBA) ہے جس میں سیلر آن لائن کسی بھی سٹور سے سامان خرید کر اسے ڈائریکٹ ایمازون کے سٹور میں رکھوا دیتا ہے، جبکہ سٹور اس کی فیس الگ سے چارج کرتا ہے , پھر آرڈر آنے کی صورت میں سٹور خود سے سیلر کے دیے گئے اڈریس پر بھیج دیتاہے، کیا یہ صورت بزنس کے جدید تقاضوں کے مطابق شریعت میں درست ہے؟
کسی بھی جائز پروڈکٹ کی آن لائن خرید اری کے بعد اس کو خود یا اپنے کسی وکیل کے ذریعے اپنے قبضہ میں لانے کے بعد فروخت کرنا جائز ہے،لہذا صورت مسئولہ میں اگر مندرجہ بالا تفصیل وطریقہ کے مطابق ایف بی اے (FBA) کاروبار کو انجام دیا جائے تو شرعاً جائز ہوگا ورنہ نہیں۔
کما فی الدارالمختار: (لا) یصح اتفاقاً ککتابۃ وإجارۃ و (بیع منقول) قبل قبضہ ولو من بائعہ الخ (5/147)۔
و فی فقہ البیوع: ان کان المتعاقدین بینھما ثقۃ موفورۃ فانہ یمکن للمشتری بعد المساومۃ او عقد الشراء مع تاجر فی بلد آخر ای یرسل الیہ الثمن بای وسیلۃ من الوسائل اعتماداً منہ علی البائع انہ سیرسل الیہ المبیع فور تسلیمہ للثمن (الی قولہ) و فی ھذہ الحالۃ یتم العقد بینھما اما کتابہ او شفاھا علی الھاتف فینطبق علیہ کل ماذکرنا فی مبحث الایجاب والقبول عن الطریق الآلات الحدیثۃ وکذالک تنطبق علیہ احکام بیع الشئ الغائب وما یحصل فیہ حقوق للمشتری مثل خیار الرؤیۃ وخیار العیب الخ (2/525)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1