کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ:
ایک مدرسہ جس کی زمین اور تعمیر بنات کے لئے مکمل طور پر وقف ہے اور اس کی زمین محدود ہے،کیا اس عمارت کو بنات کے مدرسے کے ساتھ ساتھ سیکنڈ ٹائم دیگر سرگرمیوں کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے؟مثلاً لڑکوں کا مدرسہ،خانقاہ،مسافر خانہ،غم وخوشی کے لئے ذاتی استعمال میں لانا وغیرہ؟قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب مرحمت فرمائیں۔
مذکور مدرسہ جو بنات کی تعلیم کے لئے وقف کیا گیا ہے، اس میں اگر فارغ اوقات میں لڑکوں کو تعلیم دی جائے یا اس میں ذکر واذکار کا حلقہ لگایا جائے اور اس کی وجہ سے بنات کی تعلیم پر کوئی اثر واقع نہ ہو تو شرعاً اگرچہ اس کی اجازت ہے،تاہم مذکورمدرسہ کو مستقلاً لڑکوں کی تعلیم کے لئے مختص کرنا یا اس میں مستقل طور پر خانقاہ بنانا یا اسے مسافر خانے کے طور پر استعمال کرنا یا اسے ذاتی کاموں کے لئے استعمال میں لانا چونکہ واقف کی منشاء کے خلاف ہے،اس لئے شرعاً اس کی اجازت نہیں۔
کمافی الشامیة: ومدرسة السليمانية في دمشق مبنية في أرض المرجة التي وقفها السلطان نور الدين الشهيد على أبناء السبيل بشهادة عامة أهل دمشق والوقف يثبت بالشهرة، فتلك المدرسة خولف في بنائها شرط وقف الأرض الذي هو كنص الشارع، فالصلاة فيها مكروهة تحريما في قول، وغير صحيحة له في قول آخر كما نقله في جامع الفتاوى اھ(1/381)۔
وفی الدرالمختار: [مطلب استأجر دارا فيها أشجار] قولهم: شرط الواقف كنص الشارع أي في المفهوم والدلالة ووجوب العمل به فيجب عليه خدمة وظيفته أو تركها لمن يعمل، وإلا أثم لا سيما فيما يلزم بتركها تعطيل الكل من النهر اھ(4/433)۔
وفی الھندیة: البقعة الموقوفة على جهة إذا بنى رجل فيها بناء ووقفها على تلك الجهة يجوز بلا خلاف تبعا لها، فإن وقفها على جهة أخرى اختلفوا في جوازه والأصح أنه لا يجوز كذا في الغياثية اھ(2/362)۔