میں اپنے محلے میں فجر کی اذان دیتا ہوں، میں نے اپنے دونوں گھٹنوں کو آپریشن کرکے تبدیل کرایا ہے، جس کی وجہ سے میں مسلسل آدھے گھنٹے ایک جگہ نہیں بیٹھ سکتا، تاکہ اقامت بھی خودسنبھالوں، اس لیے میں نے اپنی طرف سے ایک شخص کا فجر کی اقامت کیلئے انتخاب کیا ہے، جو کہ دوسری نمازوں کا مؤذن بھی ہے، میں مستقل طور پر اس شخص کیلئے بالکل امام کے پیچھے جگہ خالی چھوڑتا ہوں، تا کہ وہ یہاں کھڑا ہوکر اقامت دے سکے، مگر وہ شخص بہت تاخیر سے صبح کو آتا ہے، (یعنی بالکل جماعت کھڑے ہونے کے وقت ) جسکی وجہ سے دیگر نمازی آگے بڑھ کر اس جگہ کو بسا اوقات گھیر لیتے ہیں، اور جب یہ مصلی آخری ٹائم میں آتا ہے، تو اپنی اس منتخب جگہ کو حاصل کرنے کیلئے مزاحمت بھی کرتا ہے، اور بسا اوقات ان سے جبراً وہ جگہ چھین بھی لیتا ہے، جو اسلامی قوانین کے خلاف بھی ہے، تو اس معاملے میں ان دوسرے لوگوں کو اور اس مکبر کو کیا کرنا چاہئیے ؟ وضاحت فرمائیں۔
کسی شخص کا مسجد میں اپنے لئے کوئی جگہ اس طور پر مختص کرنا کہ وہاں کسی اور کو نماز پڑھنے نہ دیا جائے، شرعاً درست نہیں، بلکہ مسجد میں جو شخص پہلے آکر کسی جگہ بیٹھ جائے، تو وہی اس مقام کا حقدار ہوگا، لہذا سائل نے جس شخص کو فجر کی نماز کے وقت میں اقامت کیلئے مختص کیا ہے، اگر وہ مسجد میں موجود نہ ہو، اور کوئی نمازی آکر امام کے عین پیچھے نماز کے انتظار میں بیٹھ جائے، تو اسکے بعد مذکورشخص کا اس نمازی کو وہاں سے ہٹانا، اور اس کے ساتھ لڑائی جھگڑا کرنا قطعاً درست نہیں، بلکہ اسے چاہئیے کہ یا تو بروقت مسجدمیں آنے کی کوشش کرے، یا بعد میں آنے کی صورت میں اسے جہاں جگہ ملے، وہی کھڑا ہو کر اقامت و نماز ادا کرے، البتہ اگر دیگر نمازی اس کا لحاظ رکھتے ہوئے وہ جگہ اس کیلئے خالی رکھیں، تو یہ ان کی طرف سے اسکی تعظیم و تکریم ہوگی۔
ففی الدر المختار وحاشية ابن عابدين: وخير صفوف الرجال أولها وفي حاشية الأشباه للحموي عن المضمرات عن النصاب: وإن سبق أحد إلى الصف الأول فدخل رجل أكبر منه سنا أو أهل علم ينبغي أن يتأخر ويقدمه تعظيما له اهـ فهذا يفيد جواز الإيثار بالقرب بلا كراهة خلافا للشافعية (1/ 569)۔
وفیہ ایضاً: وتخصيص مكان لنفسه، وليس له إزعاج غيره منه ولو مدرسا، قال الأوزاعي: له أن يزعجه، وليس له ذلك عندنا اهـ أي لأن المسجد ليس ملكا لأحد بحر عن النهاية
قلت: وينبغي تقييده بما إذا لم يقم عنه على نية العود بلا مهلة،(الی قولہ)قال الخير الرملي: ومثل المسجد مقاعد الأسواق التي يتخذها المحترفون من سبق لها فهو الأحق بها، وليس لمتخذها أن يزعجه إذ لا حق له فيها ما دام فيها، فإذا قام عنها استوى هو وغيره فيها.(662/1)۔