بعد از سلام پوچھنا یہ ہے کہ اگر منگنی ہوگی ہوشادی نہیں ہوئی ہوتوآدمی یہ کہہ دے’’اگر میں نے دوبارہ یہ کام کیاتو مجھ پربیوی طلاق ہے‘‘ اور اس سے وہ کام ہو جائے اس کا حکم کیا ہے۔
نوٹ: سائل سے فون پر بات کرنے پر معلوم ہوا کہ منگنی میں نکاح ہو چکا ہے۔
سوال میں مذکور جملہ "اگر میں نے دوبارہ یہ کام کیا تو مجھ پر بیوی طلاق ہے" سے تعلیق طلاق منعقد ہو چکی تھی، لہذا اب اگر مذکورشخص وہ کام کرلے اور اس سے پہلے خلوت صحیحہ بھی نہ ہوئی ہو تو اس سے اس کی بیوی پر ایک طلاق بائن واقع ہو کر نکاح ختم ہو جائیگا، جس کے بعد اگر دونوں میاں بیوی کی طرح رہنا چاہتے ہوں تو تجدید نکاح لازم ہو گا، مگر اس تجدید نکاح کے بعد شوہر کوآئندہ فقط دو طلاقوں کا اختیار رہے گا۔
في الدر المختار: (وإن فرق) بوصف أو خبر أو جمل بعطف أو غيره (بانت بالأولى) لا إلى عدة اھ(3/286)۔
وفی ردالمحتار: (قوله أي تبطل اليمين) أي تنتهي وتتم، وإذا تمت حنث فلا يتصور الحنث ثانيا إلا بيمين أخرى لأنها غير مقتضية للعموم والتكرار لغة نهر (قوله ببطلان التعليق) فيه أن اليمين هنا هي التعليق اھ(3/352)۔
’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0