السلام علیکم مفتیانِ کرام! میرا سوال یہ ہے کہ ہماری مسجد میں امام صاحب نے ایک غیر داڑھی والے شخص کو اذان اور اقامت کی اجازت دے رکھی ہے اور ان کی موجود گی میں اگر داڑھی والے ہوں ، تب بھی اس غیر داڑھی والے سے ہی اذان دلواتے ہیں؟ کیا یہ درست ہے؟ اور اکثر یہ شخص ہی اس عمل کو انجام دیتا ہے۔
مذکور شخص اگر داڑھی منڈواتا ہو تو باشرع اور داڑھی والے افراد کی موجودگی میں مذکور شخص کا اذان دینا مکروہ ہے ، لہٰذا امام صاحب موصوف کو چاہیۓ کہ داڑھی والے باشرع افراد کی موجودگی میں مذکور شخص سے اذان کہلوانے سے اجتناب کرے اور اسے مناسب طریقہ سے مسئلہ بھی سمجھادے تا کہ اس کی دل آزاری نہ ہو۔
في الدر المختار : (و يكره أذان جنب و إقامته و إقامة محدث لا أذانه) على المذهب (و) أذان (امرأة) و خنثى (و فاسق) و لو عالما ، لكنه أولى بإمامة و أذان من جاهل تقي اھ (1/ 392)۔
و فى بدائع الصنائع : و منها أن يكون تقيا لقول النبي صلى الله عليه و سلم الإمام ضامن و المؤذن مؤتمن و الامانة لا يؤديها الا تقى و منها أن يكون عالما بالسنة لقوله صلى الله عليه و سلم يؤمكم اقرءكم و يؤذن لكم خياركم ۔ اھ (1/646)۔