السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
میرا نام فاروق ہے میں ضلع سوات سے تعلق رکھتا ہوں، میرا سوال درجِ ذیل ہے، جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ پاکستان میں کئی مقامات ایسے ہیں جو قدیم معاشروں کا آبائی گھر رہے ہیں ، ضلع سوات بھی ایک ایسی جگہ ہے جو قدیم بھوڈ سٹ (ہندو) کا گھر رہا ہے، جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ آج کل لوگ زمین کھود تے ہیں قدیم اشیاء برآمد کرنے کے لئے ، جس میں سکے، سونے کے برتن، اور مجسموں کے فن پارے شامل ہوتے ہیں، یہ چیزیں مختلف مواد میں پائے جاتے ہیں، جیسے کانسی سونا وغیرہ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ قدیم چیزوں کی مارکیٹ بہت مشہور ہے، اور یہ چیزیں زیادہ قیمتوں میں فروخت ہوتی ہیں، کیا اسلام میں ان قدیم فن پاروں خاص طور پر کانسی اور سونے کے مجسموں کو فروخت کرنا جائز ہے، براہِ مہربانی ہماری رہنمائی فرمائیں، تاکہ ہم اس موضوع کے متعلق اسلامی قانون کا حکم جان سکیں ۔
زمین سے برآمد شدہ اشیاء چاہے وہ کانسی کے ہوں یا سونے کے ان کو فروخت کرنا جائز ہے، البتہ اس میں قدرے تفصیل ہے کہ اگر کسی غیر مملوکہ زمین سے کوئی دفینہ ( سونا، چاندنی، جواہرات) برآمد ہوں اور اس پر کفر کی علامات ہوں یا کوئی مشتبہ دفینہ ہو یعنی اس پر کوئی علامت نہ ہو، تو اسکا حکم مالِ غنیمت والا ہے، اس میں سے پانچواں حصہ بیت المال میں دیا جائے گا، اور باقی چار حصے واجد یعنی دفینہ برآمد کرنے والے کو ملیں گے، اور اگر غیرمملوکہ زمین سے دفینہ برآمد ہو مگر اس پر اسلامی علامات ہوں مثلاً کلمہ وغیرہ تو وہ دفینہ لقطہ کے حکم میں ہے، جس کا حکم یہ ہے کہ جس شخص کو یہ ملے حتی الامکان وہ اس کی تشہیر کرے، اگر تشہیر کے باوجود اس کا مالک نہ ملے تو اس کو اپنے پاس محفوظ رکھے، اگر حتی الامکان تشہیر کے باوجود اس کا مالک نہ مل سکے تو مالک کی طرف سے وہ دفینہ کسی فقیر مستحق کو دیدیا جائے، اور برآمد کرنے والا خود فقیر ہو تو خود بھی استعمال کرسکتاہے، اور اگر دفینہ کسی کی مملوکہ زمین میں برآمد ہو اور اس پر علامات کفر ہوں توزمین کا مالک ہی خمس کےبعد مابقیہ کا مالک ہوگا، اور اگر اس پر اسلامی علامات ہوں تو اس کا حکم لقطہ والا ہوگا، زمین کا مالک اس کی تشہیر کرے گا، اگر دفینے کا مالک نہ مل سکے تو کسی فقیر کو دیا جائے گا، البتہ اگر کسی بھی وقت دفینہ کا مالک آجائے تو اس کو اس کا دفینہ حوالہ کیا جائے گا، اگر دفینہ موجود نہ ہو تو اس کی قیمت اسے دی جائے گی۔
کما فی ردالمختار: تحت (قوله: سمة الإسلام) بالكسر وهي في الأصل أثر الكي والمراد بها العلامة وذلك ككتابة كلمة الشهادة أو نقش آخر معروف للمسلمين (قوله: نقدا أو غيره) أي من السلاح والآلات وأثاث المنازل والفصوص والقماش بحر.
(قوله: فلقطة) ؛ لأن مال المسلمين لا يغنم بدائع (قوله: سيجيء حكمها) وهو أنه ينادي عليها في أبواب المساجد والأسواق إلى أن يظن عدم الطلب ثم يصرفها إلى نفسه إن فقيرا وإلا فإلى فقير آخر بشرط الضمان ح. (قوله: سمة الكفر) كنقش صنم أو اسم ملك من ملوكهم المعروفين بحر (قوله: خمس) أي سواء كان في أرضه أو أرض غيره أو أرض مباحة كفاية قال قاضي خان وهذا بلا خلاف؛ لأن الكنز ليس من أجزاء الدار فأمكن إيجاب الخمس فيه بخلاف المعدن الخ (2/322)۔
و فی الدرالمختار: (وما عليه سمة الإسلام من الكنوز) نقدا أو غيره (فلقطة) سيجيء حكمها (وما عليه سمة الكفر خمس وباقيه للمالك أول الفتح) الخ (2/322)۔
و فی البدائع: أما الكنز فلا يخلو إما أن وجد في دار الإسلام، أو دار الحرب، وكل ذلك لا يخلو إما أن يكون في أرض مملوكة، أو في أرض غير مملوكة، ولا يخلو إما أن يكون به علامة الإسلام كالمصحف والدراهم المكتوب عليها لا إله إلا الله محمد رسول الله، أو غير ذلك من علامات الإسلام، أو علامات الجاهلية من الدراهم المنقوش عليها الصنم، أو الصليب ونحو ذلك،الخ (2/65)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1