پانچ افراد نے مشترکہ دنیاوی مقصد کے حصول کے لئے مشروط طلاق کی قسم کھائی کہ جو بھی مقصد حاصل کرنے سے پہلے ساتھ چھوڑے گا اس کی بیوی کو طلاق ہو پھر چار نےایک کو چھوڑ دیا , کیا ان چار افراد کے لئے ان کی بیویاں حلال ہیں ؟
نوٹ : سائل سے رابطہ کرنے پر معلوم ہوا کہ مذکور پانچ افراد میں سے ہر ایک نے یہ کہا تھا کہ " میں اگرمقصد حاصل کرنے سے پہلے ساتھ چھوڑوں تو میری بیوی کو طلاق ہو"۔
صورتِ مسئولہ میں سوال میں مذکور جملہ " میں اگر مقصد حاصل کرنے سے پہلے ساتھ چھوڑوں تو میری بیوی کو طلاق ہو " سے تعلیق طلاق منعقد ہو چکی تھی، لہذا مقصد کے حصول سے قبل جس نے بھی ساتھ چھوڑا ہے اس کی بیوی پر ایک طلاق رجعی واقع ہو چکی ہے، جس کے بعد ان کو دورانِ عدت رجوع کرنے کا اختیار حاصل ہو گا لیکن اگرمذکور افراد نے عدت میں رجوع نہ کیا توعدت کے گزرنے کے بعد دوبارہ ساتھ رہنے کے لئے تجدیدِ نکاح لازم ہو گا،بہر دو صورت آئندہ کے لئے مذکور افراد کے پاس فقط دو (2) طلاقوں کا اختیار ہو گا۔
کمافی الدرالمختار: (وإن فرق) بوصف أو خبر أو جمل بعطف أو غيره (بانت بالأولى) لا إلى عدة اھ(3/286)۔
وفی ردالمحتار:ر (قوله أي تبطل اليمين) أي تنتهي وتتم، وإذا تمت حنث فلا يتصور الحنث ثانيا إلا بيمين أخرى لأنها غير مقتضية للعموم والتكرار لغة نهر (قوله ببطلان التعليق) فيه أن اليمين هنا هي التعليق اھ(3/352)۔
’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0