السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! مجھے مندرجہ ذیل سوالوں کے جواب درکار ہے۔
(1) ڈیفنس سیونگ سرٹیفکیٹ سود کے زمرے میں آتا ہے یا نہیں؟
(2) اگر کوئی ایسا بزنس کرتا ہے جس میں وہ کوئی نئی گاڑی یا موٹر سائیکل یا موبائل خرید کر کسی کو ماہانہ قسطوں پہ دیتا ہے، جس میں اصل قیمت سے زیادہ وصول کرتا ہے، تو کیا یہ سود میں آتا ہے ؟
(3) کرپٹو کرنسی اور اسٹاک اکسچینج میں خرید و فروخت کرنا جائز ہے کہ نہیں؟
(4) اگر کوئی شخص دوسرے ملک( افغانستان، ایران ، انڈیا ،جس کا بارڈر پاکستان کے ساتھ ہے) سے سستی چیز خرید کر پاکستان لاتا ہے ، اور بارڈر پر کمیشن دیتا ہے، چیز کو کلیئر کرنے کیلئے، امپورٹ کیلئے ، اور یہاں آکر ٹیکس نہیں دیتا اور چیز بیچ دیتا ہے، کیا یہ حلال ہے یا نہیں؟
(5) اگر کوئی شخص شراب پیتا ہے کم مقدار میں اور کہتا ہے کہ مجھے نشہ نہیں چڑ ھتاتو یہ مجھ پر حرام نہیں ہے، اس بات کی کیا حقیقت ہے رہنمائی کیجئے۔
گورنمنٹ کی ڈیفنس سیونگ سرٹیفیکٹ کے ذریعے بھی سودی معاملات ہی انجام دیے جاتے ہیں، اس میں جائز و ناجائز معاملات کے درمیان تفریق نہیں کیا جاتا، اس لئے اس سے حاصل ہونے والے منافع کو بھی اپنے استعمال میں لانے سے احتراز کرنا چاہیئے ۔
جوب 2: گاڑی خرید کر اس کو آگے قسطوں پر فروخت کر نا درجِ ذیل شرائط کے ساتھ جائز ہے۔
(1) پہلی شرط یہ ہے کہ عقدہی میں یہ طے کر لیا جائے کہ یہ معاملہ ادھار اور قسطوں پہ ہو گا۔
(2) ہر قسط کی مالیت طے کر لی جائے۔
(3) یہ بھی طے کر لیا جائے کہ کل اقساط کتنی ہوں گی۔
(4) کسی قسط کی تاخیر کی وجہ سے کوئی جرمانہ وغیرہ بھی مشروط نہ ہو۔
جواب 3: واضح ہو کہ کرپٹو کرنسی کا کوئی حسی وجود نہیں بلکہ محض ڈیوائس میں موجود گی اور ضمان کی حد تک اس کو کرنسی خیال کیا جاتا ہے ، جب کہ ملکی قانون میں اس کو مبادلہ اور خرید و فروخت کے لیے استعمال کرنا ممنوع ہے ، اس لیے شرعا یہ کرنسی کے حکم میں نہیں ہے، جس سے احتراز لازم۔
جواب 3: اسٹاک ایکسچینج میں شیئر کی خرید و فروخت درجِ ذیل شرطوں کے ساتھ جائز ہے :
(1) جس کمپنی کے شیئر خریدے جا رہے ہیں وہ کمپنی کسی حرام کا روبار میں ملوث نہ ہو۔
(2) اس کمپنی کے تمام اثاثے اور املاک سیال اثاثوں (liquid assets) یعنی نقد رقم کی شکل میں نہ ہوں، بلکہ کمپنی نے کچھ فکسڈ اثاثے ( fixed assets ) حاصل کر لیے ہوں مثلا بلڈ نگ بنائی ہو یا زمین خرید لی ہو۔
(3) اگر کمپنی کا بنیادی کا روبار تو حلال ہو لیکن کمپنی سودی لین دین کرتی ہو تو اس صورت میں اس کی سالانہ میٹنگ میں سودی لین دین کے خلاف آواز اٹھائی جائے۔
چوتھی شرط جو حقیقت میں تیسری شرط کا ایک حصہ ہے، وہ یہ ہے کہ جب منافع تقسیم ہوں تو وہ شخص انکم اسٹیٹمنٹ (income statement) کے ذریعے معلوم کرے کہ آمدنی کا کتنا فیصد سودی ڈیپازٹ سے حاصل ہوا ہے ، پھر جتنا حصہ سودی ڈیپازٹ سے حاصل ہوا ہو اس کو صدقہ کر دے ، لہذا مذکور ہ بالا شرائط کی مکمل پابندی کے ساتھ اگر شیئر کی خرید و فروخت کی جائے تو اس سے حاصل شدہ نفع بھی حلال ہوگا۔
جواب 4: اگر حکومتِ وقت نے مفاد عامہ کے پیش نظر " اسمگلنگ " پر پابندی عائد کر رکھی ہے ، تو اس پابندی کا احترام کرنا اور اس کی خلاف ورزی سے بچنا ہر شہری پر لازم ہے، اس کے علاوہ اس قانون کی خلاف ورزی کے نتیجے میں انسان کو اپنی عزت اور مال کے تلف ہونے کا اندیشہ رہتا ہے، اس لئے اس سے گریز کرنا چاہئیے۔
تاہم اگر اسمگل شدہ مال فی نفسہ جائز اور حلال ہو ، تو اس کی خرید و فروخت جائز اور اس سے حاصل ہونے والا نفع بھی حلال ہے۔
جواب 5: شراب پینا چاہے کم مقدار میں ہو یا زیادہ کسی کو نشہ چڑھے یا نہ، از روئے قرآن و حدیث ناجائز و حرام ہے، اس سے احتراز کرنالازم ہے۔
کما فی الدرالمختار: (ولا يجوز بيعها) لحديث مسلم «إن الذي حرم شربها حرم بيعها الخ (6/449)۔
و فی البحر الرائق: (قوله: فلو تجانسا شرط التماثل والتقابض) أي النقدان بأن بيع أحدهما بجنس الآخر فلا بد لصحته من التساوي وزنا ومن قبض البدلين قبل الافتراق، الخ (6/209)۔
کما فی التنزیل: یا ایھا الذین آمنوا انما الخمر والمیسر والانصاب ولازلام رجس من عمل الشیطن فاجتنبولعلکم تفلحون (سورۃ المائدۃ90)۔
و فی البدائع: (منها) أنه يحرم شرب قليلها وكثيرها إلا عند الضرورة لأنها محرمة العين فيستوي في الحرمة قليلها وكثيرها (والدليل) على أنها محرمة العين قوله سبحانه وتعالى {رجس من عمل الشيطان} [المائدة: 90] الخ (5/113)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1