میری بہن کے دو بچے تھے اس کے شوہر نے اسے کہا کہ ’’اگر تیسر ابچہ ہوا تو تم مجھ پر طلاق ہو ‘‘ان کاتیسر ا بچہ ہو گیا ہے تو کیا طلاق ہو گئی ہے ؟کیا یہ ایک طلاق ہو ئی ہے؟ اگر ایک طلاق ہوئی ہے تو اس کا اسلام کے مطابق کیا حل ہے یاان دونوں کو دوبارہ سے نکاح کرنا ہو گا ؟اس کے بارے میں جتنا جلدی ہو سکے رہنمائی کر دیں ۔
صورت مسئولہ میں سوال میں مذکور جملہ "اگر تیسرا بچہ ہوا تو تم مجھ پر طلاق ہو" سے تعلیق طلاق منعقدہو چکی تھی، لہذا اب تیسرے بچے کی پیدائش ہوتے ہی سائل کی بہن پر ایک طلاق رجعی واقع ہو چکی ہے، جس کے بعد سائل کے بہنوئی کو دوران عدت رجوع کرنے کا اختیار حاصل ہو گا ،لیکن اگر سائل کے بہنوئی نے عدت میں رجوع نہ کیا تو عدت کے گزرنے کے بعد دوبارہ ساتھ رہنے کے لیے تجدید نکاح لازم ہوگا، بہر دو صورت آئندہ کے لیے سائل کے بہنوئی کے پاس فقط دو (2) طلاقوں کا اختیار ہو گا۔
’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0