محترم جناب مفتی صاحب
السلام علیکم ورحمہ اللہ وبرکاتہ! بعد سلام مسنون عرض ہے کہ میں نے ایک پلاٹ بنام ع سے ۳۰ فٹ چوڑائی لمبائی پہاڑی کے آخری حد تک خرید اتھا، مذکورہ پلاٹ ایک مدرسہ و جامع مسجد کے ساتھ لگا ہوا تھا، مذکورہ پلاٹ کو مہتمم مدرسہ نے کہہ کر لیا تھا، مذکورہ پلاٹ مجھے مدرسہ کے لیے ضرورت ہے، میں آپ کو متبادل پلاٹ دونگا، مگر عرصہ دراز ہو گیاہے، نہ پلاٹ دے دیا ہے، نہ معاوضہ ادا کر رہا ہے، ساتھ کچھ سامان یعنی میٹریل بھی پڑا ہوا تھا۔ اس کا پہنچائیت مولاناع صاحب کو دیا تھا، انہوں نے فیصلہ کیا تھا، مگر ابھی تک عمل درآمد نہیں ہوا۔ کیا اس طرح دھوکہ دہی جائز ہے شرعاً؟ کیا اس طرح علماء کرام کا عمل صحیح ہے شرعاً؟ برائے کرم از راہ شرع فیصلہ فرمائیں ، تاکہ مجھ غریب کا حق مجھے مل جائے۔
صورت مسئولہ کا بیان اگر واقعۃً سچ اور مبنی بر حقیقت ہو تو مذکور پلاٹ کے سلسلہ میں قاری صاحب کا معاوضہ یا متبادل پلاٹ دینے کی بجائے ٹال مٹول سے کام لینا قطعاً ناجائز و حرام اور غصب کے زمرے میں آتا ہے ،جس کی وجہ سے وہ بہت سخت گناہ گار ہو رہا ہے اس کو چاہیے کہ وہ مذکور رویہ اختیار کر کے اہل علم طبقہ کو بد نام کرنے کا ذریعہ نہ بنے، بلکہ اہل حق کو اس کا حق شرعی دے کر مواخذہ اخروی سے سبکدوشی حاصل کرے، ورنہ سائل اس کے خلاف قانونی کارروائی کا بھی مجاز ہے۔
ففى مشكاة المصابيح: عن سعيد بن زيد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من أخذ شبرا من الأرض ظلما فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين» (متفق عليه) اھ (2/ 887)
و في الدر المختار: وشرعا (إزالة يد محقة بإثبات يد مبطلة في مال متقوم محترم قابل للنقل بغير إذن مالكه) (الى قوله) (وحكمه الإثم لمن علم أنه مال الغير ورد العين قائمة والغرم هالكة اھ (6/ 177، 179) واللہ اعلم بالصواب
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1