اسلام علیکم ...میرا سوال یہ ھے. کہ اگرکوئ بندہ کسی کمپنی سے پیسے چوری کرے اور بعد میں یہ بندہ اس پیسے سے تھوڑا کمائ کرے مثال کے طورپر ایک لاکھ چوری کیا. اور اس پر اس بندے نے دس ھزار کمائ کی . اور اب وہ پیسے اس کو واپس کرنا چاھتا ھے تو کیا یہ ایک لاکھ اس کو واپس کرنا ھوگا ..یا وہ دس ھزار کے ساتھ یعنی ایک لاکھ دس ھزار ،
دوسری بات یہ ھے. کہ یہ چوری بندے نے امارات میں کی ہو اور واپس کرنے میں اسکو مشکل ھوسکتی ہے اور بندہ ممنوع بھی ھوسکتا ہے. کیونکہ یہاں کے قانون بہت سخت ہیں تو مہربانی کریں اس کا حل دیکھیں کیونکہ واپس کرنے سے بندہ ممنوع ہوسکتا ہے تو کیا اس کو لازمی واپس کرنا ہوگا یا کوئ اور حل ہے . جزاک اللہ خیر
اگر کوئی شخص کسی سے رقم چوری کرے، تو اس کی وجہ سے وہ سخت گناہ گار ہو جاتا ہے، جس پر اسے بصدق دل تو بہ و استغفار اور آئندہ کے لیے اس جیسے کاموں سے اجتناب لازم ہے، جبکہ چوری کردہ رقم اگر اصل مالک اور اُس کے نہ ہونے کی صورت میں اُس کے ورثاء تک پہنچانا ممکن نہ ہو، تو اُسے کسی مناسب طریقے (ہدیہ وغیرہ کے نام ) سے انہیں وہ رقم واپس کر دینا لازم ہے، پھر چوری کرنے والے شخص نے اگر بعینہ چوری کردہ رقم سے کاروبار کر کے نفع حاصل کیا ہو، تو وہ منافع بھی اس کے لیے حلال نہ ہو گا، بلکہ اس منافع کو صدقہ کرنا یا اصل رقم کے ساتھ اس کے مالک کو لوٹا نا لازم ہو گا۔
کما فی مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر: (وإن كانا) أي المغصوب أو الوديعة (لا يتعينان) كالنقدين فقد قال الكرخي على أربعة أوجه ذكرها المصنف بقوله (فإن أشار) المتصرف (إليهما) أي إلى دراهم الغصب أو الوديعة (ونقدهما فكذلك) لا يطيب له الربح ويتصدق به عندهما خلافا له. (وإن أشار إلى غيرهما ونقدهما) أي دراهم الغصب أو الوديعة (أو أشار إليهما ونقد غيرهما أو أطلق) إطلاقا ولم يشر إليهما ولا إلى غيرهما بل قال اشتريت بدرهم. (و) لكن (نقدهما) أي دراهم الغصب أو الوديعة (طاب له الربح اتفاقا قيل وبه) أي بعدم الطيب في الأولى وبالطيب في الصور الثلاث الباقية (يفتى) قائله صاحب الوقاية موافقا لما في المحيط حيث قال الفتوى على قول الكرخي لكثرة الحرام دفعا للحرج عن الناس في هذا الزمان وهذا قول الصدر الشهيد. و في الدرر وبه كان يفتي الإمام أبو الليث (والمختار) عند مشايخنا (أنه لا طيب مطلقا) يعني في الصور كلها لإطلاق المبسوط والجامعين اھ (2/ 459)
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): نص في الجامع الصغير: إذا غصب ألفا فاشترى بها جارية وباعها بألفين تصدق بالربح. وقال الكرخي: في الوجه الأول والثاني لا يطيب، و في الثلاث الأخيرة يطيب، وقال أبو بكر: لا يطيب في الكل، لكن الفتوى الآن على قول الكرخي دفعا للحرج عن الناس اهـ. و في الولوالجية: وقال بعضهم: لا يطيب في الوجوه كلها وهو المختار، ولكن الفتوى اليوم على قول الكرخي دفعا للحرج لكثرة الحرام اهـ وعلى هذا مشى المصنف في كتاب الغصب تبعا للدرر وغيرها اھ (5/ 235)
و في فقه البيوع : فالذى يميل اليه القلب ان ما رجحه صاحب الهداية والكاساني بناء على قولى ابي حنيفة و محمد هو الأولى بالترجيح، وهو الاحتياط وان كان كثير من الفقهاء المتاخرين افتوا بذلك لعموم البلوى ولذا فمن ابتلى بمثل هذا يرجى ان يسوغ له الاخذ بهذا القول عند حاجة شديدة والتنزه اولى ، ولم يذكر عن الكرخى حكم البائع الذي اخذ من المشترى النقود المغصوبة، هل يسوغ له استعمال تلك النقود؟ وقد افتى كثير من علمائنا انه يجوز له ذلك ايضاً والله سبحانه وتعالى اعلم اھ (۲/ ۱۰۱۶) والله اعلم بالصواب
مقتول کے اولیاء میں سے کچھ ورثاء و اولیاء قصاص معاف کردیں تو دیگر اولیاء کے لئے دیت اور اس کی تقسیم کا حکم و طریقہ کار
یونیکوڈ تعذیر و جرمانہ 1