السلام علیکم
کیا فقہی متون میں خود کشی کی کوشش کرنے والے (زندہ بچ جانے والے) کے لیے کوئی تعزیر یا دنیاوی سزا کا بیان منقول ہے؟ کیا تاریخ اسلام میں اس کی کوئی نظیر ملتی ہے؟
واضح ہوکہ خود کشی کرنا کبیرہ گناہ ہے،جس سےمتعلق احادیث مبارکہ میں سخت وعیدیں واردہوئی ہیں،اس گناہ کامرتکب اگرزندہ بچ جائے تواخروی سزاسے بچنے کے لیےاس پر بصدق دل توبہ واستغفارکرنالازم وضروری ہے،جبکہ اس جرم کی دنیاوی سزاکےحوالےسے فقہی متون میں اس متعلق کوئی مقررہ حد یا معین شرعی سزا ذکر نہیں کی گئی ہے اورتاریخی طور پر بھی ابتدائی اسلامی ادوار میں اس جرم پر باقاعدہ مقرر عدالتی سزا کی نظائر معروف و منقول نہیں،اس لیے ایسے شخص کے لیے متعین سزاکافیصلہ تونہیں کیاجاسکتا،البتہ یہ عمل چونکہ کبیرہ گناہ اور جان کے اتلاف کی کوشش ہے، اس لیے اگر حاکمِ وقت مناسب سمجھے تو حالات کے اعتبار سے تعزیری سزا دے سکتا ہے۔
كمافي «صحيح البخاري» : عن الحسن حدثنا جندب بن عبد الله في هذا المسجد وما نسينا منذ حدثنا وما نخشى أن يكون جندب كذب على رسول الله صلى الله عليه وسلم قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «كان فيمن كان قبلكم رجل به جرح فجزع فأخذ سكينا فحز بها يده فما رقأ الدم حتى مات قال الله تعالى: بادرني عبدي بنفسه حرمت عليه الجنة.»(4/ 170)
وفي «صحيح مسلم» : «عن جابر بن سمرة؛ قال:أتي النبي صلى الله عليه وسلم برجل قتل نفسه بمشاقص. فلم يصل عليه.»(2/ 672 ت عبد الباقي)
وفي «شرح النووي على مسلم» : «قوله (أتى النبي صلى الله عليه وسلم برجل قتل نفسه بمشاقص فلم يصل عليه) المشاقص سهام عراض واحدها مشقص بكسر الميم وفتح القاف وفي هذا الحديث دليل لمن يقول لا يصلى على قاتل نفسه لعصيانه وهذا مذهب عمر بن عبد العزيز والأوزاعي وقال الحسن والنخعي وقتادة ومالك وأبو حنيفة والشافعي وجماهير العلماء يصلى عليه وأجابوا عن هذا الحديث بأن النبي صلى الله عليه وسلم لم يصل عليه بنفسه زجرا للناس عن مثل فعله وصلت عليه الصحابة»(7/ 47)
مقتول کے اولیاء میں سے کچھ ورثاء و اولیاء قصاص معاف کردیں تو دیگر اولیاء کے لئے دیت اور اس کی تقسیم کا حکم و طریقہ کار
یونیکوڈ تعذیر و جرمانہ 1