Pubg گیم کے بارے میں فتوی آیا تھا، اب یہ پوچھنا تھا کہ ان کے اکاؤنٹ جو ہوتے ہے ان کو سیل کرنےیا خرید نے کا کیا حکم ہے؟
واضح ہو کہ خرید وفروخت کے لئے مبیع کا مال ہونا لازم اور ضروری ہے،جبکہ گیم وغیرہ کے اکاؤنٹس کوئی مال نہیں، لہٰذا اس طرح کے اکاؤنٹس کی خرید وفروخت شرعاً جائز نہیں، البتہ اگر کسی نے اپنی محنت اور کوشش کے ذریعے کسی گیم یا دیگر ایپس کے اکاؤنٹ کو شہرت دی ہو، اور اس اکاؤنٹ میں موجود ڈیٹا بھی غیر شرعی امور پر مشتمل نہ ہو تو ایسی صورت میں اگر کسی کے عوض دست بردار ہو، تو بظاہر اس کی گنجائش معلوم ہوتی ہے، مگر اس سلسلہ میں اگر دیگر علماءِ کرام سے بھی معلوم کیا جائے تو بہتر ہوگا۔
ففي الدر المختار: وفي الأشباه لا يجوز الاعتياض عن الحقوق المجردة كحق الشفعة وعلى هذا لا يجوز الاعتياض عن الوظائف بالأوقاف، وفيها في آخر بحث تعارض العرف مع اللغة. المذهب عدم اعتبار العرف الخاص لكن أفتى كثير باعتباره وعليه فيفتى بجواز النزول عن الوظائف بمال اھ (4/ 518)۔
وفي شرح المجلة للأوتاسی: أقول وعلی ما ذکروا من جواز الاعتیاض عن الحقوق المجردة بمال ینبغی أن یجوز الاعتیاض من حق التعلی وعن حق الشرب (إلی قوله) ینبغی أن یجوز ذالک علی وجه الفراغ والصلح لا علی وجه البیع کما جاز النزول عن الوظائف ونحوھا اھ (۴/ ۱۴۱)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1