بینک اسلامی میں رقم جمع کروانا کیسا ہے؟ اس سے جو منافع ملتے ہیں اس کے بارے میں لوگ کہتے کہ یہ سود میں شامل نہیں ہے اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ دوسرا یہ کہ قسطوں پر موٹر سائیکل یا کوئی اور چیز نکلوانا کیسا ہے؟
بینک اسلامی اور وہ تمام بینک جو اسلامی بینکاری کا دعوٰی کرتے ہیں اور ان کے کئی ایک معاملات بنسبت دوسرے بینکوں کے اصولِ شرعیہ کے بھی موافق ہیں مگر اس کے باوجود یہ پرائیوٹ ادارے ہیں اور دوسرے یہ کہ ان بینکوں میں انجام دیے جانے والے تمام معاملات مکمل طور پر شریعت کے مطابق بھی نہیں اس لئے ان اداروں کے ساتھ کوئی معاملہ کرنے سے پہلے متعلقہ اداروں میں متعین ایڈوائزر سے بالمشافھہ بات کر کے پہلے اپنے معاملہ کی مکمل تفصیل اور وضاحت معلوم کرلیں پھر اسے لکھ کر کسی بھی معتمد ادارے سے اس کا حکمِ شرعی معلوم کرلیں اور اس کے بعد اس کے موافق عمل کریں۔
(2) نقد کے مقابلہ میں ادھار یا قسطوں پر زیادہ قیمت دیکر کسی چیز کی خریداری شرعاً بھی جائز اور درست ہے مگر اس کی چند شرائط ہیں (1) پہلی مجلسِ عقد میں طے کر لیا جائے کہ یہ معاملہ ادھار اور قسطوں پر ہوگا (2) ہر قسط کی مالیت طے کرلی جائے (3) یہ بھی طے کر لیا جائے کہ کل کتنی قسطیں ہونگی (4) اور اگر کوئی قسط اپنے وقت مقرّرہ سے لیٹ ہوجائے تو اس پر کوئی مزید چارجز اور جرمانہ بھی عائد نہ ہو ان شرائط کو ملحوظ رکھتے ہوئے قسطوں پر کسی چیز کا خریدنا بلاشبہ جائز اور درست ہے۔
کما فی الدرالمختار: وصح بثمن حال وھو الاصل و مؤجل الی اجل معلوم لئلا یفضی الی النزاع (4/531)۔
و فی المبسوط: واذا عقد العقد علی انہ الی اجل کذا بکذا او باالنقد او الی شھر بکذا (الی قولہ) وھذا اذا افتی علی ذالک فان کان یتراضیان بینھما ولم یفترقا حتی قاطعہ علی ثمن معلوم واتما العقد علیہ فھو جائز لانھما ما افتی الا بعد تمام شرط صحہ العقد الخ (13/7)۔