جمعہ کے دن بعد اذان خریدوفروخت کرلیا، اب دل بے چین ہے کہ یہ تو گناہ کرلیا ،اب پوچھنا یہ ہے کہ خریدی ہوئی چیز پر توبہ کافی ہے کہ اس کو استعمال کرلے یا پھینک دے یا کچھ اور حکم ہے؟ براہ کرم دلیل بھی عنایت فرمائیں۔
واضح ہو کہ جمعہ کی اذانِ اَول کے بعد خرید و فروخت میں لگنا اور جمعہ کی تیاری میں سستی کرنا شرعاً ناجائز اور گناہ ہے ،لہذا سائل نے اذان اول کے بعد جو خرید و فروخت کی ہے، تو اس پر توبہ واستغفار کرے اور آئندہ کےلیے جمعہ کی اذانِ اول کے بعد دیگر ایسے کاموں میں لگنے سے مکمل احتراز کرے، جبکہ مذکور خریدی ہوئی چیز استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں، ان اشیاء کو ضائع کرنا درست نہیں ،جس سےاحتراز لازم ہے۔
كما فى تنزيل القرآن: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِفَاسْعَوْا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ} [الجمعة: 9]
وفي أحكام القرآن للجصاص: وَاخْتَلَفُوا فِي جَوَازِ الْبَيْعِ عِنْدَ نِدَاءِ الصَّلَاةِ فَقَالَ أَبُو حَنِيفَةَ وَأَبُو يُوسُفَ وَزُفَرُ وَمُحَمَّدٌ وَالشَّافِعِيُّ الْبَيْعُ يَقَعُ مَعَ النَّهْي اهـ (341/5)
وفي الدر المختار: (وكره) تحريما مع الصحة البيع عند الأذان الأول) إلا إذا تبايعا يمشيان فلا بأس به لتعليل النهي بالإخلال بالسعي فإذا انتفى انتفى اھ (101/5)
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1