مفتی صاحب میرا ایک دوست ہے اس نے اپنے بیوی کو مندرجہ ذیل الفاظ بولے ہیں " کہ میں آپ کو طلاق کرتا ہوں اگر آپ نے آئندہ موبائل کو جلدی اٹنڈ نہ کیا " ابھی اس کے بعد اس نے کال نہیں کیا ہے، لیکن وہ پشیمان ہے، کہ میں اپنے الفاظ واپس لے لوں، کیونکہ اس نے تو گھر کو کال کرنا ہے لیکن ڈرتا ہے، کہ اگر اس نے جلدی اٹنڈ نہیں کیا، تو اسے طلاق نہ ہو جائے ؟ مہربانی کر کے رہنمائی فرمائیں
سائل کے دوست کے مذکور جملہ "میں آپ کو طلاق کرتا ہوں اگر آپ نے آئندہ موبائل کو جلدی اٹینڈ نہ کیا " کہنے سے سائل کے دوست کی بیوی پر ایک طلاق معلق ہو گئی ہے ، اب اگر سائل کے دوست کی بیوی نے اپنے شوہر کی کال جلدی اٹینڈ نہ کی تو اس پر ایک طلاق رجعی واقع ہو جائے گی، جس کا حکم یہ کہ اس کے بعد سائل کا دوست اگر چاہے تو عدت کے اندر اپنی بیوی سےرجوع کر سکتا ہے ، جس کا طریقہ یہ ہے کہ یا تو زبان سے کہہ دے کہ مثلاً میں نے رجوع کر لیا وغیرہ یا عملاً میاں بیوی والے تعلقات قائم کرے یا شہوت کے ساتھ بیوی کو چھولے تو اس سے بھی رجوع ہو جائے گا، اگر عدت کے دوران رجوع نہیں کیا تو عدت گزرنے کے بعد دوبارہ ایک ساتھ رہنے کیلئے تجدیدِ نکاح لازم ہو گا، جبکہ عورت کو دوسری جگہ شادی کرنے کا اختیار ہو گا ، تاہم رجوع یا دوبارہ نکاح کی صورت میں مذکور شخص کو آئندہ فقط دو طلاقوں کا اختیار رہے گا، جب کبھی وہ دو طلاقیں بھی دیدے گا تو سائل کی بیوی اس پر حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہو جائے گی۔
كما في تنویرالأبصار: (شرطه الملك) (كقوله لمنكوحته) (إن ذهبت فأنت طالق) ( أو الإضافة إليه) الخ3/344)
وفی الدرالمختار: (وتنحل) اليمين (بعد) وجود (الشرط مطلقا) لكن إن وجد في الملك طلقت وعتق وإلا لا الخ(3/355)
’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0