میں زوال کے وقت کے بارے میں جاننا چاہتا ہوں ، زوال کے وقت سے کچھ پہلے یا زوال کے وقت ، اذانِ جمعہ دینے یا تلاوتِ قرآن مجید کرنے کے بارے میں کیا حکم ہے؟
واضح ہو کہ نماز کی طرح اذانِ جمعہ کا بھی اپنے وقت کے اندر دینا ضروری ہے ، وقت سے پہلے درست نہیں، اس لۓ سائل یا اس کے دیگر متعلقین کو اذانِ جمعہ بھی وقتِ زوال ختم ہونے کے بعد ہی اس کا اہتمام چاہیۓ ، تاہم اگر کسی نے وقت شروع ہونے سے پہلے ہی اذان دے دی تو اس صورت میں اگر چہ اس کا لوٹانا اور دوبارہ وقت داخل ہونے کے بعد دینا لازم نہیں، مگر آئندہ کے لۓ ایسا عمل کرنے سے احتراز چاہیۓ ، جبکہ تلاوت کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
في حاشية الطحطاوي : (الذى هو اعلام ) بكسر الهمزة و قوله بدخولها أي الاوقات اھ (۱/ ۱۰۳)۔
و في منية المصلى : أول وقت صلوة الظهر زوال الشمس اھ (۱/ ۲۲۷)۔
و في الدر المختار : (و جمعة كظهر أصلا و استحبابا) الخ و في رد المحتار تحت : (قوله اصلا) أى من جهة أصل وقت الجواز ، و ما وقع في أخرة من الخلاف اھ (١ / ٣٦٨)۔