میرے ایک دوست نے مجھ سے معلوم کیا ہے کہ اسکی اور اسکی زوجہ کی کسی بات پر لڑائی ہوگئی،جس میں اسکی زوجہ بلاوجہ میرے دوست کی والدہ پر الزامات لگانے شروع ہوگئی ، میرے دوست نے اپنی بیوی سے کہا کہ تم باز آجاؤ وہ باز نہ آئی تو دوست نے کہا کہ ’’ اگر یہ بات تم نے 3 دفعہ دہرائی تو تم کو طلاق دے دونگا ‘‘پر غصے کی وجہ سے اسکی بیوی نے وہ بات 3 دفعہ دہرائی اسکے بعد میرا دوست خاموش ہو گیا اس نے اپنے منہ سے طلاق کا لفظ ادا نہیں کیا , اب آپ سے گزارش ہے کہ رہنمائی فرمائیں کہ کیا طلاق واقع ہوگئی کہ نہیں ؟نوازش ہو گی - جزاک الله خیراً
سائل کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو ، اس میں کسی قسم کی دروغ گوئی اور غلط بیانی سے کام نہ لیا گیا ہو ، اس طور پر کہ سائل کے دوست نے اپنی بیوی کو مذکور الفاظ " اگر یہ بات تم نے تین دفعہ دہرائی تو تم کو طلاق دیدوں گا " کہہ دیے ہوں اور اس کے بعد کوئی طلاق نہ دی ہو تو اس سے اس کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، لہذا دونوں حسبِ سابق میاں بیوی کی طرح ساتھ رہ سکتے ہیں، البتہ آئندہ کیلئے طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط لازم ہے۔
کما فى العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية :صيغة المضارع لا يقع بهاالطلاق إلا إذا غلب في الحال كما صرح به الكمال بن الهمام اهـ (381) ۔
’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0