کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ:
مسجد بنانے کے لئے ہم نے ایک فلیٹ خریدا،کچھ وجوہات کی بنا پر وہاں مسجد نہ بن سکی،لہذا اس فلیٹ کو بیچ کر ہم نے دوسری جگہ خریدی،جس کیلئے ہم نے قرض بھی لیا،دوسری جگہ میں نیچے دکانیں بنی ہوئی تھیں اور ارادہ یہ تھا کہ دکانیں بیچ کر بقیہ قرضہ ادا کریں گے اور پہلی منزل میں مسجد بنائیں گے،خریدنے کے بعد انجینئر نے کہا کہ اوپر مسجد نہیں بن سکتی،اس مکان کو منہدم کرکے مسجد بنانا کیسا ہے؟ اور اس میں دکانیں بھی بنیں گی،لہذا چندہ دکانوں کے لئے الگ لیا جائے گا یا مسجد کے نام پر ہی لیا جائے گا، فلیٹ کو بیچ کر مکان خریدنے کا عمل کیسا ہے؟
مذکور جگہ مسجد بنانا بلاشبہ درست ہے،البتہ اگر یہ دکانیں بنانے کے بعد بھی مسجد کی ملکیت اور مسجد پر وقف رہیں اور ان سے حاصل ہونے والی آمدنی خالص مسجد کے امور میں ہی صرف کی جائے تو اس صورت میں یہ مسجد شرعاً بھی مسجد ہی کہلائے گی،ورنہ جائے نماز , اور اس صورت میں دکانوں کےلئے مسجد کے چندے کا استعمال درست نہیں رہے گا۔
کما فی الفتاوی الھندیة: وفي الفتاوى النسفية سئل عن أهل المحلة باعوا وقف المسجد لأجل عمارة المسجد قال: لا يجوز بأمر القاضي وغيره، كذا في الذخيرة وفي فوائد نجم الدين النسفي - رحمه الله تعالى - أهل مسجد اشتروا عقارا بغلة المسجد ثم باعوا العمارة واختلف المشايخ في جواز بيعهم والصحيح أنه لا يجوز، كذا في الغياثية اھ(2/464)۔
وفی البحر الرائق: بخلاف مااذا کان السرداب او العلو موقوفاً لمصالح المسجد فانه یجوز اذ لاملك فیه لأحد بل ھو من تتمیم مصالح المسجد فھو کسرداب مسجد بیت القدس اھ(5/251)۔