میری بیوی نے نیند کی گولی کھائی لڑائی کے بعد، میں نے اسے بولا ، تم باز نہیں آسکتی، تم آگے بھی جا کر یہی کرو گی ، سو بہتر ہے، طلاق لو اور جاؤ ، تم باز نہیں آسکتی، تو اس نے بولا نہیں چاہیئے مجھے طلاق، میں نے کہا کہ ایسی حرکتیں کرتی ہو، تولو، اور جاؤ، مطلب اسے میں ڈرا رہا تھا، میری نیت یہی تھی کہ اگر تم باز نہیں آتی، تو طلاق دیتا، مگر میں نے یہ کہا کہ طلاق دیتا، نہ میری ایسی نیت تھی، ایسی صورت میں رہنمائی کریں طلاق ہو جاتی ہے؟
سائل کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو ،اس میں کسی طرح کی غلط بیانی اور دروغ گوئی سے کام نہ لیا ہو، تو سوال میں مذکور الفاظ "طلاق لو اور جاؤ " کی وجہ سے سائل کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، دونوں اب بھی میاں بیوی کی طرح زندگی بسرکر سکتے ہیں۔