شوھر اگر بیوی کو پڑھا رھا ہو طلاق کا باب اور اس میں لفظ انت طالق انت طالق انت طالق تین بار کہے اور یہ تو صریح الفاظ ہے کیا طلاق واقع ہو گی؟؟؟
واضح ہو کہ اگر کوئی شخص تعلیم کی غرض سے یا کتاب پڑھاتے وقت طلاق کے لکھے ہوئے الفاظ دہرادے، تو اس سے شرعا طلاق واقع نہیں ہوتی، لہذا صورتِ مسئولہ میں بطورحکایت مذکور الفاظ بولنے سے شخص مذکور کی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ہے، بلکہ دونوں کا نکاح بدستور برقرار ہے، لہذا بلاوجہ شکوک وشبہات میں پڑنے کی ضرورت نہیں۔
البحر الرائق شرح كنز الدقائق (9/ 183):
"لَوْ كَرَّرَ مَسَائِلَ الطَّلَاقِ بِحَضْرَةِ زَوْجَتِهِ، وَيَقُولُ: أَنْتِ طَالِقٌ وَ لَايَنْوِي لَاتَطْلُقُ ، وَ فِي مُتَعَلِّمٍ يَكْتُبُ نَاقِلًا مِنْ كِتَابِ رَجُلٍ قَالَ: ثُمَّ يَقِفُ وَ يَكْتُبُ : امْرَأَتِي طَالِقٌ، وَكُلَّمَا كَتَبَ قَرَنَ الْكِتَابَةَ بِاللَّفْظِ بِقَصْدِ الْحِكَايَةِ لَايَقَعُ عَلَيْهِ".