اسلام و علیکم محترم۔
کیا بیوی کو ایک مرتبہ طلاق کہنے سے(ڈرانے کی غرض سے) طلاق واقعہ ہو جاتی ہے۔
برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں۔
جی ہاں بیوی کو ڈرانے کی غرض سے طلاق دینے کی صورت میں بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے، اس لیے اگرکوئی شخص واضح الفاظ ( جیسے میں تمیں طلاق دیتاہوں یا تجھے طلاق ہے وغیرہ ) کے ساتھ ایک مرتبہ اپنی بیوی کو طلاق دیدے، تو اس سے اس کی بیوی پر ایک طلاق رجعی واقع ہوجائیگی، تاہم وہ دوران عدت اپنی بیوی سے رجوع کرسکتاہے۔
اور اگر اس نے اس سے قبل یا بعد میں مزید کوئی الفاظ طلاق استعمال نہ کی ہو، تو اس ایک طلاق کے بعد آئندہ کے لیے اس کے پاس فقط دوطلاق کا اختیارباقی رہیگا۔اس لیے آپس کی چھوٹی موٹی باتوں پر طلاق کے الفاظ استعمال کرنے سے اجتناب ضروری ہے۔