السلام علیکم مفتی صاحب!
بیوی نے طلاق کا مطالبہ کیا سامنے بیٹھ کر،ا س کو ایک طلاق لکھ کر دے دی گئی، عدت پوری ہونے سے پہلے وہ واپس آ گئی، پھر اس نے دوبارہ طلاق مانگی اور زبانی طلاق دے دی گئ , پھر رجوع ہوگیا، اب بیوی حاملہ ہونے کے بعد اپنے گھر چلی گئی ہے اور اس کا کچھ پتہ نہیں ہے نہ کوئی رابطہ کرتی ہے نہ رابطے میں آتی ہے ۔سوال یہ ہے کہ اگر یونین کونسل میں پہلی طلاق جو ہو چکی تھی اس کا بتایا جائے اور وہ نوٹس بیوی کے گھر ارسال کریں گے تو کیا اس پہلی طلاق کے نوٹس سے تیسری طلاق واقع ہو جائے گی یا نہیں؟
واضح ہو کہ زبانی یا پھر لکھ کر دونوں طریقوں سے طلاق دینےسے شرعاً طلاق واقع ہو جاتی ہے، لہذا سائل نے اپنی پر بیوی کو یکے بعد دیگرے دو طلاقیں دیدی ہوں اور ہرطلاق کے بعد عدت ختم ہونے سے پہلے ہی رجوع کر لیا ہو تو سائل کا نکاح بدستوربر قرار ہے , لہذا سائل حسبِ سابق اپنی بیوی کے ساتھ رہ سکتا ہے ، البتہ آئندہ کیلئے سائل کو صرف ایک طلاق کا اختیار حاصل ہوگا , اس لئے طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط لازم ہے، جبکہ سائل کا تیسری طلاق دیے بغیر یونین کو نسل کا دی گئی پہلی طلاق کا نوٹس جاری کرنے سے تیسری طلاق واقع نہیں ہو گی۔
وفي الهداية : فالصريح قوله أنت طالق ومطلقة وطلقتك فهذا يقع به الطلاق الرجعي اھ (1/225)۔
وفي الھندیہ: ثم المرسومة لا تخلو أما إن أرسل الطلاق بأن كتب أما بعد فأنت طالق فكلما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة.(1/378)۔