اگر کسی چیز کا مالک بطور زبان مسٹر اے کو بنا دیا جائے، جبکہ کاغذ میں نام مسٹر بی کا ہو، اور مسٹر بی اس بات کو تسلیم کرتا ہو کہ مسٹر اے کی ملکیت ہے، تو ایسا کرنا کیا جائز ہے ؟
سائل نے یہ بیان نہیں کیا کہ زبانی ایک کو اور کاغذات میں دوسرے کو مالک بنانے کی کیا وجہ ہے؟ تاہم اگر اس میں کسی طرح کی دھوکہ دہی اور نزاع کا اندیشہ نہ ہو، بلکہ کسی مصلحت سے ایسا کیا گیا ہو، جس کے متعلق فریقین کو بخوبی معلوم ہو تو اس کی گنجائش ہے، لیکن کوئی چیز باقاعدہ مالکانہ قبضے کے ساتھ کسی کو دینے کے بجائے فقط کاغذات میں کسی کے نام کر دینے یا وہ چیز زبانی کلامی کسی کو دے دینے سے شرعا اس کی ملکیت نہیں بنتی۔
كما في فقه البيوع: فالذي يظهر انه لا ينبغى ان يعتبر التسجيل قبضاً ناقلاً للضمان في الفقه الاسلامي ، الا اذا صاحبته التخلية بالمعنى الذي ذكرناه فيما سبق، ومنه ان يكون العقار مستغلا بالاجارة ، وعقد المشترى الاجارة مع المستاجر صراحة او اقتضاء، كما اسلفنا والله سبحانه اعلم اھ (۱/405)
و في شرح المجلة للاتاسى: مادة: ٨٦١ يملك الموهوب له الموهوب بالقبض. (ص: 166)
و في ملتقى الأبحر: هي تمليك عين بلا عوض وتصح بإيجاب وقبول، وتتم بالقبض الكامل اھ (ص: 489)
و في قواعد الفقه: لا يتم التبرع الا بالقبض. (ص : ۱۰۸ ق، ۲۶۲)
و في الهداية شرح البداية: والتخلية اعتبرت تسليما لوقوعه تمكينا وهو الفعل الذي يحصل به التمكن ولا تمكن في المشاع اھ (3/ 240)
و في البحر الرائق شرح كنز الدقائق: لأن قبض كل شيء وتسليمه يكون بحسب ما يليق به اھ (5/ 268) واللہ اعلم بالصواب