جناب ہمارے ایک دوست ہیں جو قسطوں پر موبائل فون اور دوسری ضرورت کی اشیاء دیتے ہیں، ان کا طریقہ کار یہ ہے کہ اگر کوئی پندرہ ہزار(15000) کی کوئی بھی چیز لیتا ہے وہ اس سے پندرہ ہزار (5000) ایڈوانس لیتے ہیں، پھر پندرہ ہزار پر چالیس(40) فیصدکر کے باقی رقم دس ماہ میں ماہواری انسٹولمٹ کے ذریعے لےگا، ساری بات پہلے طے کرلیتے ہیں کیا یہ طریقہ جو یہ کرتے ہیں، شریعت کی رو سے ٹھیک ہے۔
قسطوں پر خرید و فروخت درج ذیل چار شرائط کے ساتھ شرعاً بھی جائز ہے ۔
(1) پہلی مجلسِ عقد میں یہ طے کرلیا جائےکہ یہ معاملہ ادھار ہوگا یا قسطوں پر(2)ہر قسط کی مالیت طے کر لی جائے (3) یہ بھی طے کر لیا جائے کہ کل کتنی قسطیں ہونگی (4) کسی قسط کی تاخیر کی وجہ سے کوئی جرمانہ وغیرہ مشروط نہ ہو چنانچہ ان شرائط کو ملحوظ رکھتے ہوئےقسطوں پر خریدنا بلاشبہ جائز اور درست ہے ورنہ نہیں۔
کمافی سنن الترمذی: وقد فسر بعض أهل العلم قالوا: بيعتين في بيعة أن يقول: أبيعك هذا الثوب بنقد بعشرة، وبنسيئة بعشرين، ولا يفارقه على أحد البيعين، فإذا فارقه على أحدهما فلا بأس إذا كانت العقدة على أحد منهما الخ (2/524 )۔
وفی المبسوط: وإذا عقد العقد على أنه إلى أجل كذا بكذا وبالنقد بكذا أو قال إلى شهر بكذا أو إلى شهرين بكذا فهو فاسد؛ لأنه لم يعاطه على ثمن معلوم ولنهي النبي - صلى الله عليه وسلم - عن شرطين في بيع وهذا هو تفسير الشرطين في بيع ومطلق النهي يوجب الفساد في العقود الشرعية وهذا إذا افترقا على هذا فإن كان يتراضيان بينهما ولم يتفرقا حتى قاطعه على ثمن معلوم، وأتما العقد عليه فهو جائز؛ لأنهما ما افترقا إلا بعد تمام شرط صحة العقد اھ(ج:13/ص7)۔
و فی بحوث فی قضایا فقیھۃ معاصرۃ: أما الأئمة الأربعة وجمهور الفقهاء والمحدثون، فقد أجازوا البيع المؤجل بأكثر من سعر النقد، بشرط أن يبت العاقدان بأنه بيع مؤجل بأجل معلوم، وبثمن متفق عيه عند العقد اھ(1/12)۔
وفی الدر المختار: وصح بثمن حال وھو الاصل و مؤجل إلی اجل معلوم لئلا یفضی الی النزاع الخ (4/531)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1