محترم جناب مفتی صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ !
پوچھنا یہ ہے کہ ایک مسجد کی کمیٹی نے مسجد کی وقف زمین کو ایک غیر مسلم کمپنی کے ہاتھ فروخت کردیا،ابھی کمپنی کے مالک نے اس زمین کو اپنے نام سرکاری کاغذات میں درج نہیں کرایا تھا ک(داخل خارج نہیں کرایا تھا) کہ دوسرے کچھ مسلمانوں نے اس زمین کو کمپنی سے خرید لیا،اب سرکاری کاغذات میں نام درج ہونے کے لئے مسجد کی کمیٹی کے لوگ مزید رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں،دریافت طلب امر یہ ہے کہ یہ خرید وفروخت شرعاً درست ہوئی یا نہیں؟ اگر قانوناً اس زمین کو اپنے قبضے میں واپس لینا مسجد کی کمیٹی کی قدرت میں نہ ہو تو ایسی صورت میں کیا حکم ہوگا؟ نیز مسجد کی کمیٹی کا دستخط کرنے کے لئے مزید رقم کا مطالبہ کرنا کیسا ہے؟ دلائلِ فقہیہ کی روشنی میں سوالات کا جواب عنایت فرمائیں،بندہ آپ کا مشکور ہوگا،فقط۔والسلام۔
صورتِ مسئولہ میں مسجدِ کمیٹی کا مسجد کی وقف زمین کو فروخت کرنا اگر بلاضرورتِ شرعیہ اور ذاتی اغراض کے لئے ہو تو یہ انتہائی نامناسب اور غلط عمل ہے، ایسے لوگ مسجدِ کمیٹی کے ممبر بننے کے اہل نہیں، ان کو مسجدِکمیٹی سے علیحدہ کرنا دیگر اہلِ محلہ پر واجب ہے، جبکہ وقف شدہ زمین کو فروخت کرنے سے وہ کمپنی اس زمین کی مالک بھی نہیں بنی ہے، اس لئے جن لوگوں نے موقوفہ زمین کو فروخت کیا ہے ان پر لازم ہے کہ اس زمین کو دوبارہ اس کمپنی سے لے لیں اور مسجد کی زمین میں شامل کریں اور اگر کچھ اضافی رقم دینی بھی پڑے تو وہ بھی انہی کمیٹی والوں پر لازم ہوگی کہ وہ ادا کریں،جبکہ دوسرے کسی کا اس زمین کو خریدنا شرعاً ناجائز ہے، اس لئے اس سے احتراز لازم ہے۔
کما الشامیة: وفی الجواھر : القیم اذا لم یراع الوقف یعزله القاضی اھ(4/380)۔
وفی البحر الرائق: ولایملك الوقف باجماع الفقھاء کما نقله فی فتح القدیر ولقوله علیه السلام لعمر رضی اللہ عنه: تصدق باصلھا لاتباع ولاتورث ولانه بااللزوم خرج عن ملك الواقف وبلاملك لایتمکن من البیع افاد منع تملیکه اھ(5/205)۔