السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اگر میں کسی بینک یا شخص سے قرض لے لوں اور اصل رقم سے زائد واپس کروں تو میں سود میں مبتلا ہوجاؤنگا جو کہ در حقیقت حرام ہے، یہاں سعودی عرب میں قسطوں پر کار خریدنے کا ایک پروگرام ہے، جس میں وہ زائد رقم وصول کرنے کی اجازت دیتے ہیں، میں اس کا نقطہ نظر جاننا چاہتا ہوں کہ اگر میں کمپنی کے ڈیلر سے ڈائریکٹ کار خریدں اور رقم قسطوں میں زائد رقم کے ساتھ ادا کروں تو کیا یہ قسطیں سود کی بنیاد پر ہونگی؟ یا یہ قرضے پر تجارت کا ذریعہ ہے براہِ کرم یہ جواب ہماری اصلاح کے لئے عنایت فرمائیں پھر میں (www.aislamqa.Com) کے ایک اسکالر کو اس کا جواب دونگا، جو کہ اس کو جائز قرار دیتے ہیں۔
قسطوں پر کاروبار کے جائز ہونے کے لئے درجِ ذئل چار شرائط کا لحاظ رکھنا ضروری ہے۔
اول یہ کہ پہلی مجلس میں ہی یعنی خریدار اور شئ کا مالک بیچنے والا شروع میں ہی طے کرلیں کہ یہ معاملہ نقد ہوگا یا کہ ادھار اور قسطوں میں ہوگا، پھر اگر قسطوں میں ہونا طے ہوجائے تو یہ بھی طے کرلیں کہ اس کی کل قسطیں کتنی ہوں گی، اور یہ کہ ہر قسط کی مالیت کتنی ہوگی، اور چوتھے یہ کہ اگر کوئی قسط اپنے مقرّرہ وقت سے لیٹ ہوجائے تو اس پر مزید کوئی جرمانہ وغیرہ نہ ہو، چنانچہ اس طرح کسی چیز کا بیچنا یا خریدنا بلاشبہ جائز ہے اور اس صورت میں ادھار کی بناء پر اصل رقم سے جو زائد رقم دی جا رہی ہے یہ شرعاً سود بھی نہیں بلکہ اس کا لینا دینا دونوں باتیں جائز اور درست ہیں۔
کمافی رد المحتار: لان للاجل شبھا بالمبیع الا تری أنہ یزاد فی الثمن لأجلہ اھ(5/142)۔
و فی البحر الرائق: لان للاجل شبھا بالمبیع الاتری انہ یزاد فی الثمن لاجل الاجل ثم قال بعد أسطر، الاجل فی نفسہ لیس بمال ولا یقابلہ شئ من الثمن حقیقۃ اذا لم یشترط زیادۃ الثمن بمقابلتہ قصداً ویزاد فی الثمن لاجلہ اذا ذکر الاجل بمقابلۃ زیادۃ الثمن قصداً الخ (6/114)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1