السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! حضرت میرا سوال یہ ہے ۔ جیسا کہ آج کل ڈیجیٹل کمپیوٹر کا دور ہے، اس حال میں اب استطاعت نہ ہونے کی وجہ سے زیادہ تر لوگ کتابیں خریدنے سے قاصر ہیں اب واٹس ایپ پر یا دیگر سوشل نیٹ ورکنگ کے ذریعے سے جو لوگ ایک دوسرے کو PDF فائل کی شکل میں کتابیں ارسال کرتے ہیں تو کیا ان کو بھی ویسے ہی ثواب ملتا ہے جیسے اگر کوئی کسی کو علم سکھائے، وہ شخص آگے اس علم کو پہنچائے تو اسی طرح وہ علم آگے آگے پہنچتا رہے گا اس شخص کو ثواب ملتا رہے گا یعنی جو کتا بیں شیئر کرتا ہے کسی طالب علموں کو یا علماء کو اور وہ اس میں سے علم اخذ کرتے ہیں تو کیا کتابیں ارسال کرنے والے کو ثواب جاری رہتا ہیں ؟ جواب عنایت فرما کر شکریہ ادا کرنے کا موقعہ عنایت فرمائیں السلام علیکم! جزاك الله احسن الجزاء
اگر PDF کی صورت میں کسی شخص کو دینی کتابیں بھیجنے والے کی نیت ثواب کی ہو تو اُمید ہے کہ بھیجنے والے کو نیک نیتی کے ساتھ اچھا عمل کرنے پر ثواب ملے گا ، لیکن اس کا ثواب اُس درجے کا نہ ہوگا جو لوگوں کو علم دین سکھانے پر ملتا ہے ۔
كما في صحيح البخاري: عن أبي هريرة رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «يا نساء المسلمات، لا تحقرن جارة لجارتها، ولو فرسن شاة» (3/ 153)
و فيه ايضاً : عمر بن الخطاب رضي الله عنه على المنبر قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «إنما الأعمال بالنيات، وإنما لكل امرئ ما نوى، فمن كانت هجرته إلى دنيا يصيبها، أو إلى امرأة ينكحها، فهجرته إلى ما هاجر إليه» (1/ 6)
و في السنن الكبرى للبيهقي: عن أبي هريرة , عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: " تهادوا تحابوا " (6/ 280)
و في عمدة الرعاية بتحشية شرح الوقاية: إن الثواب منوطا بالنية أن الثواب موقوف على النية (1/ 291)
و في البحر الرائق شرح كنز الدقائق: «إنما الأعمال بالنية» ووجهه أن المراد بالأعمال العبادات لأن كثيرا من الأعمال تعتبر شرعا بلا نية فيكون المراد إنما صحة العبادات بالنية اھ (1/ 26)
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے آپسی معاملات کو بیان کرتے ہوۓ ان کے لۓ نامناسب الفاظ استعمال کرنا
یونیکوڈ ثواب والے اعمال 0