کیا زردشت کے ماننے والے اہلِ کتاب سمجھے جاتے ہیں؟ میں نے کسی ویب سائٹ میں اس سوال کا جواب ہاں اور نہیں دونوں میں دیکھا ہے، مجھے اُلجھن ہے، کیا قرآن میں ان کا ذکر ہے؟ خاص طور پر کہیں اہلِ کتاب کی حیثیت میں؟
زردشت جو مجوسی کہلاتے ہیں اُن کے کافر اور مشرک ہونے میں کوئی شبہ نہیں، اور ان کے اہلِ کتاب ہونے سے متعلق قرآنِ کریم میں کوئی تصریح نہیں، یہی وجہ ہے کہ بعض لوگ انہیں اپنی تحقیق کے مطابق اہلِ کتاب میں شمار کرتے ہیں اور بعض نہیں۔
’’والمجوس ہم علی ما روی عن قتادۃ أیضًا قوم یعبدون الشمس والقمر والنیران‘‘ وقال ’’وقیل ہم قوم اعتزلوا النصاری ولبسوا المسوح وقیل قوم أخذوا من دین النصاری شیئًا ومن دین الیہود شیئًا وہم قائلون بأن للعالم أصلین نوراً وظلمۃ وفی کتاب الملل والنحل ما یدل علی أنہم طوائف وأنہم کانوا قبل الیہود والنصاریٰ وأنہم یقولون بالشرائع علٰی خلاف الصابئۃ وان لہم شبہۃ کتاب وأنہم یعظمون النار۔ (روح المعانی: ج۹، ص۱۲۹) واللہ اعلم بالصواب