خود کشی

قتل اور خودکشی والی مشتبہ موت مرنے والے کا جنازہ پڑھانے کا حکم

فتوی نمبر :
89779
| تاریخ :
2025-12-09
عبادات / جنائز / خود کشی

قتل اور خودکشی والی مشتبہ موت مرنے والے کا جنازہ پڑھانے کا حکم

کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں : کہ ایک مسلمان لڑکی کی موت مشتبہ حالت میں ہوئی اور ابھی تک یہ ثابت نہیں ہوسکی کہ یہ خود کشی ہے ، یا قتل صرف شبہ پایا جاتا ہے کوئی قطعی ثبوت موجود نہیں ، ایسی صورت میں شرعاً کیا اس کی نماز جنازہ پڑھانا جائز ہے، یا نہیں؟
پولیس انکوائری کر رہی ہے، پوسٹ مارٹم کی رپورٹ تقریباً 20 دن بعد آئے گی ، کیا ایسی صورت میں کوئی حافظ یا عالم صاحب نماز جنازہ پڑھا سکتا ہے ؟
قرآن وحدیث کی روشنی میں واضح جواب عنایت فرمائیں ۔ آپ صاحبان کی بے حد نوازش ہوگی۔ شکریہ

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

خود کشی کرنا اگرچہ حرام اور گناہِ کبیرہ ہے اور احادیث مبارکہ میں اس پر سخت سے سخت قسم کی وعیدیں وارد ہوئی ہیں ، تاہم خود کشی کرنے والا اپنے اس عمل کی وجہ سے دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہوتا، اس لیے اس کو بھی شرعی طریقہ پر غسل دے کر کفن پہنانا اور اس پر نمازِ جنازہ پڑھ کر مسلم قبرستان میں دفن کیا جائے گا، جہاں تک فقہاء نے سرکردہ اور نامور قسم کے لوگ شریک نہ ہونے کا حکم بیان کیا ہے وہ زجراً اور اس عمل شنیعہ سے نفرت دلانے کیلئے بیا ن کیا ہے ۔
تاہم اگر مذکور لڑکی کی موت کا وقوع خودکشی سے یقینی نہ ہو،بلکہ محض اس میں شبہ ہو تو ا یسی صورت میں مذکورہ لڑکی کی نماز جنازہ اہل علم ، حفاظ کرام بھی پڑھا سکتے ہیں لہذا بلا وجہ نماز جنازہ میں تأخیر کرنا درست نہیں ہے، جس سے اجتناب لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی سنن أبي داود: جابر بن سمرة، قال: مرض رجل فصيح عليه فجاء جاره إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال له: إنه قد مات، قال: «وما يدريك؟» قال: أنا رأيته، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إنه لم يمت» قال: فرجع فصيح عليه فجاء إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: إنه قد مات، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: «إنه لم يمت» فرجع فصيح عليه فقالت امرأته: انطلق إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فأخبره، فقال الرجل: اللهم العنه، قال: ثم انطلق الرجل فرآه قد نحر نفسه بمشقص معه، فانطلق إلى النبي صلى الله عليه وسلم، فأخبره أنه قد مات، فقال: «وما يدريك؟» قال: رأيته ينحر نفسه بمشاقص معه، قال: «أنت رأيته؟» قال: نعم، قال: «إذا لا أصلي عليه» اھ (3/ 206)
وفی سنن الترمذي: عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: من قتل نفسه بحديدة فحديدته في يده يتوجأ بها في بطنه في نار جهنم خالدا مخلدا فيها أبدا، ومن قتل نفسه بسم فسمه في يده يتحساه في نار جهنم خالدا مخلدا فيها أبدا، ومن تردى من جبل فقتل نفسه فهو يتردى في نار جهنم خالدا مخلدا فيها أبدا اھ (3/ 454)
وفی الدر المختار: (من قتل نفسه) ولو (عمدا يغسل ويصلى عليه) به يفتى وإن كان أعظم وزرا من قاتل غيره الخ۔
وفی الشامیۃ تحت (قوله به يفتى) لأنه فاسق غير ساع في الأرض بالفساد، وإن كان باغيا على نفسه كسائر فساق المسلمين زيلعي (قوله: ورجح الكمال قول الثاني إلخ) أي قول أبي يوسف: إنه يغسل، ولا يصلى عليه إسماعيل عن خزانة الفتاوى. وفي القهستاني والكفاية وغيرهما عن الإمام السعدي: الأصح عندي أنه لا يصلى عليه لأنه لا توبة له. قال في البحر: فقد اختلف التصحيح، لكن تأيد الثاني بالحديث. اهـ. أقول: قد يقال: لا دلالة في الحديث على ذلك لأنه ليس فيه سوى «أنه عليه الصلاة والسلام لم يصل عليه» فالظاهر أنه امتنع زجرا لغيره عن مثل هذا الفعل كما امتنع عن الصلاة على المديون، ولا يلزم من ذلك عدم الخ۔ (باب صلاۃ الجنازۃ، ج: 2، ص: 211، ط: سعید)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبدالعزیز رحیم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 89779کی تصدیق کریں
0     113
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • مجوسی اہل کتاب ہیں یا نہیں - کیا زرتشت آسمانی مذہب ہے ؟

    یونیکوڈ   خود کشی 0
  • یہود و نصاریٰ کو کافر نہ سمجھنا

    یونیکوڈ   خود کشی 1
  • خودکشی کرنے والے کے لئے دعائے مغفرت کاحکم

    یونیکوڈ   خود کشی 0
  • پرہیز نہ کرنے کی وجہ سے کیا انسان گناہ گار ہوگا ؟

    یونیکوڈ   خود کشی 0
  • قتل اور خودکشی والی مشتبہ موت مرنے والے کا جنازہ پڑھانے کا حکم

    یونیکوڈ   خود کشی 0
Related Topics متعلقه موضوعات