خود کشی

یہود و نصاریٰ کو کافر نہ سمجھنا

فتوی نمبر :
58867
| تاریخ :
2009-07-31
ادیان و فرق / مذاہب / خود کشی

یہود و نصاریٰ کو کافر نہ سمجھنا

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید عالمِ دین اور عاشقِ رسول ہونے کا دعویدار ہے، جبکہ اپنے ایک خطاب میں وہ کہتا ہے ’’مسلمانو !اسلامی عقیدہ کے مطابق اس وقت تک کوئی مسلمان نہیں ہوسکتا، کلمہ پڑھنے کے باوجود ،نماز، روزہ حج، زکوٰۃ کے تمام ارکان ادا کرنے کے باوجود،قرآن مجید پر ایمان رکھنے اور اسلام کی جملہ تعلیمات پر ایمان بھی رکھے اور عمل بھی کرے، مگر ان تمام ایمان کے گوشوں ، تقاضوں اور ضرورتوں کو پورا کرنے کے ساتھ اگر وہ صرف ایک شق کا انکاری ہے، وہ یہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام حضرت یسوع مسیح علیہ السلام کی نبوت کا رسالت کا، آپ کی بزرگی کا، آپ کے معجزات کا، آپ کی کرامت کا، آپ کی عظمت کا، اور ان کے نام کا، اور ان کی بعثت کا اور ان کی وحی کا اور ان کے پیغام کا اگر وہ انکار کرے اور کہے کہ میں ان کو نہیں مانتا تو تمام ایمان مختلف حقائق پر لائے ہوئے اس کو فائدہ نہیں دیں گے۔ وہ ان سب کے ماننے کے باوجود کا فر تصور ہوگا۔ یہ اتنا اہل ایمان کے لیے ہے۔
پوری دنیا میں جب تقسیم کی جاتی ہے۔ تو NON BELIEVERS اور BELIEVWRS کی تقسیم کی جاتی ہے۔ NON BELIEVERS کو کفار کہتے ہیں۔ علمی اصطلاح میں، اور BELIEVWRS ان کو کہتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی بھیجی ہوئی وحی پر، آسمانی کتابوں پر اور پیغمبروں پر ایمان لاتے ہیں۔ مذہب ان کا کوئی بھی ہو تو جب BELIEVWRS اور NON BELIEVERS کی تقسیم کی جاتی ہے تو یہودی عقیدے کے ماننے والے لوگ اور مسیحی برادری اور مسلمان یہ تین مذاہب BELIEVWRS میں شمار ہوتے ہیں، یہ کفار میں شمار نہیں ہوتے۔ اور جو کسی بھی آسمانی کتاب پر، آسمانی نبی اور رسول اور پیغمبر پر ایمان نہیں لاتے ہو،وہ NON BELIEVERS کے زمرے آتے ہیں۔ اور BELIEVWRS میں پھر آگے تقسیم ہے۔ (اہل اسلام اور اہل کتاب) تو خود قرآن مجید میں کفار کےلیے احکام اور ہیں اور اہل کتاب کےلیے اور ہیں۔ قرآن مجید کا اگر گہرائی سے مطالعہ کیا جائے اور سنت محمدیﷺ کا اور حضورﷺ کی تعلیمات کا، تو واضح طور پر یہ جو رشتہ اور تعلق ہے اور ایمان کا، وحی آسمانی کے ماننے کا، آخرت پر ایمان لانے کا، انبیاء ورسل اور پیغمبروں اور اللہ کی بھیجی ہوئی وحی پر ایمان لانے کا ،جزا اور سزا پر ایمان رکھنے کا،اعلیٰ ہذا القیاس یہ وہ مشترکات ہیں جن کی بییاد پر یہ دو عقیدے اور مذہب بہت قریب ہو جاتے ہیں‘‘۔ اس کے بعدزید عیسائیوں سے مخاطب ہو کر کہتا ہےکہ ’’آپ اپنے گھر میں آئے ہیں قطعاً کسی دوسری جگہ پہ نہیں آپ کی عبادت کا وقت ہوجائے تو ابھی مسلمان عبادت مسجد میں کریں گے۔ اگر آپ کی عبادت کا وقت ہوجائے تو ہماری مسجد کسی ایک وقت کے پروگرام کے لیے نہیں کھولی تھی، ہمیشہ ہمیشہ تک آپ کے لیے کھلی ہے‘‘۔
زید کے اس بیان کو مدنظر رکھتے ہوئے درجِ ذیل سوالات کے مفصل جوابات جلد ارسال فرما کر شکریہ کا موقع دیں اور عند اللہ ماجور ہوں۔
1. زید مسلمان کو صرف ایک شق کے انکاری کی بناپر کہ اگر وہ عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت کا، رسالت کا، آپ کی بزرگی اور معجزات کا انکار کرتا ہے، تو اسے کافر قرار دیتا ہے، جبکہ یہود و نصاریٰ جو سرے سے ہی نبی کریمﷺ کی نبوت و رسالت کے منکر ہیں انہیں کافر قرار نہیں دیتا ، کیا یہ نبی کریمﷺ کی نعوذ باللہ تنقیص نہیں ہے؟ کیا زید توہینِ رسالت کا مرتکب نہیں ہے۔
2. BELIEVWRS اور NON BELIEVERS کی مذکور تقسیم جو زید نے کی ہے اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
3. کیا یہود و نصاریٰ کافر ہیں؟
4. کیا یہود و نصاریٰ کی عبادت کے لیے مسلمانوں کی مساجد کھول دینا جائز ہے؟
5. ایسے عقیدہ کے حامل شخص کے بارے میں جو یہود ونصاریٰ کو کفار میں شمار نہیں کرتا ، شرعی حکم کیا ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

۱۔ جن انبیاء کی نبوت اور ان کے معجزات وغیرہ قرآن و سنتِ متواترہ سے بداہتہً ثابت ہیں، ان میں سے کسی ایک کی نبوت یا معجزات وغیرہ کا انکار کفر ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت اور ان کے معجزات وغیرہ بھی، چونکہ نصوص قطعیہ سے ثابت ہیں، اس لیے ان کا انکار بھی کفر ہے اور ان کے منکر کو کافر ہی کہا جائے گا، اگرچہ وہ باقی تمام اسلامی عقائد و تعلیمات کو تسلیم کرنے کے ساتھ ان پر عمل عامل بھی ہو۔
۳،۲۔ یہود ونصاریٰ بھی عام کافروں کی طرح کافر ہی ہیں، اگرچہ اہل کتاب ہونے کی وجہ سے ان کے کچھ احکام دوسرے کفار سے مختلف ہیں۔ لہٰذا ان کو کافروں میں شمار نہ کرنا ہرگز درست نہیں۔
۵،۴۔ غیر مسلم اگر یہود و نصاریٰ ہوں،اگرچہ مسجد میں داخل ہو سکتے ہیں،مگر ان کو اپنی عبادات ادا کرنے کے لیے مستقل طور پر مساجد کو کھول دینا جائز نہیں، اس سے احتراز چاہیے، جبکہ کوئی شخص اگر یہود ونصاریٰ کو عام مسلمانوں کی طرح مسلمان سمجھے اور ان کےکفر کا قائل نہ ہو ،تو وہ خود خارج از اسلام ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی الدر المختار: والكفر لغة: الستر. وشرعا: تكذيبه - صلى الله عليه وسلم - في شيء مما جاء به من الدين ضرورة الخ (4/ 223)-
و فی الدر المختار: لأن الكفار أصناف خمسة: من ينكر الصانع كالدهرية،الخ
و فی حاشية ابن عابدين: وعبارة البدائع: وصنف منهم يقرون بالصانع وتوحيده والرسالة في الجملة لكنهم ينكرون عموم رسالة رسولنا - صلى الله عليه وسلم - وهم اليهود والنصارى. (4/ 227)-
وفی الدر المختار: (و) جاز (دخول الذمي مسجدا) مطلقا وكرهه مالك مطلقا (6/ 387)-
و فی متن الشفاء: فالإجماع علی کفر من لم یکفر احداً من النصاریٰ والیہود وکل من فارق دین المسلمین (إلی قوله) لأن التوقف والإجماع اتفقا علی کفرھم فمن وقف فی ذلك فقد کذب النص اھ (۲/۵۱۰ بحواله جواہر الفقه۲/۵۷) واللہ أعلم بالصواب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 58867کی تصدیق کریں
1     2241
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • مجوسی اہل کتاب ہیں یا نہیں - کیا زرتشت آسمانی مذہب ہے ؟

    یونیکوڈ   خود کشی 0
  • یہود و نصاریٰ کو کافر نہ سمجھنا

    یونیکوڈ   خود کشی 1
  • خودکشی کرنے والے کے لئے دعائے مغفرت کاحکم

    یونیکوڈ   خود کشی 0
  • پرہیز نہ کرنے کی وجہ سے کیا انسان گناہ گار ہوگا ؟

    یونیکوڈ   خود کشی 0
  • قتل اور خودکشی والی مشتبہ موت مرنے والے کا جنازہ پڑھانے کا حکم

    یونیکوڈ   خود کشی 0
Related Topics متعلقه موضوعات