خود کشی

پرہیز نہ کرنے کی وجہ سے کیا انسان گناہ گار ہوگا ؟

فتوی نمبر :
80054
| تاریخ :
2024-12-19
عبادات / جنائز / خود کشی

پرہیز نہ کرنے کی وجہ سے کیا انسان گناہ گار ہوگا ؟

ایک شخص بیمار ہے ، ڈاکٹر نے اس کے لئے چند چیزوں سے پرہیز کا حکم دیا ہے، اس کے باوجود بھی وہ شخص منع کی ہوئی چیزوں سے پر ہیز نہیں کررہا کیا شریعت کی رو سے وہ شخص گنا گار ہوگا ؟ اسی طرح اگر وہ اس بد پرہیزی کی وجہ سے انتقال کرجائے تو کیا وہ خود کشی شمار ہوگی ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ اللہ رب العزت نے انسانی جان کو معظم و مکرم بنایا ہے ، در حقیقت یہ جان اس کی طرف سے عطا کی جانے والی ایک مقدس امانت ہے جوکہ انسان کو سپرد کی گئی ہے ، اس لیے جس طرح اس کو ضائع کرنے کو سنگین جرم قرار دیکر حرام قرار دیا گیا ہے،اسی طرح اس کو بچانے اور اس سے تکلیف کو دور کرنے کا حکم اور امر بھی فرمایاہے ، اس لیے اگر بیمار کے پاس کوئی ایسی دواء یا علاج کی تدبیر موجود ہو جس کے استعمال سے اس کی جان بچ سکتی ہو تو اس کا استعمال ضروری قرار دیا گیاہے ، چنانچہ حدیثِ مبارکہ میں ہے کہ آپﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ نے کوئی ایسی بیماری پیداء نہیں کی ہے جس کی دواء موجود نہ ہو ، جبکہ شریعتِ مطہرہ نے انسانی جان کو بچانے کے لیے بہت سی ایسی اشیاء یا غذائیں جو اس کی جان کو خطرے میں ڈال سکتی ہیں ان سے صراحتاً منع کیا ہے ۔ لہذا اگر کوئی شخص کسی بیماری میں مبتلاء ہو اور ماہر دیندار ڈاکٹر اس کوکسی چیز سے پرہیز کرنے کا حکم دیکر یہ کہے کہ یہ چیز اس کی جان کے لیے خطرہ بن سکتی ہے تو شرعاً اس مضرِ صحت اشیاء سے اجتناب کرنا مریض کے لیے شرعاً بھی لازم ہوجاتا ہے ، ایسی صورت میں مریض مضر صحت اشیاء کے استعمال کی وجہ سے گناہ گار ہوگا ، مگر چونکہ بیماری کی حالت میں مضرِ صحت اشیاء کے استعمال سے کسی کی موت کا واقع ہونا یقینی اور قطعی امر نہیں بلکہ محض ایک گمان اور اندیشہ ہے ، چنانچہ بد پرہیزی کی صورت میں اگر موت واقع ہوجائے تو اس کی وجہ سے کسی مریض پر خودکشی کا حکم نہیں لگایا جاسکتا ، کیونکہ اہلِ علم نے خود کشی کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے : ”قيام الإنسان بقتل نفسه بوعيه أو بدون وعي، أو هو الفعل المقصود لقتل النفس أو زهق الرُّوح عن سابق تصميم“ ( معجم اللغۃ العربیۃ المعاصرۃ، ج 3، ص 2176، ط عالم الکتب ) کسی انسان کا قصداً براہ راست اپنی جان کو قتل کرنےکا عمل کرلینا ، چاہے وہ زہر کھانے یا گولی مارنے یا بلند مکان سے کودنے کی صورت میں ہو ، چونکہ پرہیز نہ کرنے کی صورت میں انسان کی نیت قصداً اپنی جان لینے کی نہیں ہوتی اس لیے بیماری میں مضر صحت اشیاء کا استعمال قصداً غلط اور ممنوع ہونے کے باوجود شرعاً اسے خود کشی نہیں قرار دیا جاسکتا ۔ واللہ اعلم بالصواب۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی حاشیۃ ابن عابدین: الأصل في الأشياء الإباحة وأن ‌فرض ‌إضراره للبعض لا يلزم منه تحريمه على كل أحد، فإن العسل يضر بأصحاب الصفراء الغالبة وربما أمرضهم مع أنه شفاء بالنص القطعي، وليس الاحتياط في الافتراء على الله تعالى بإثبات الحرمة أو الكراهة اللذين لا بد لهما من دليل بل في القول بالإباحة التي هي الأصل اھ ( کتاب الاشربۃ، ج: 6، ص: 459، ناشر: سعید )-
وفی مواھب الجلیل من ادلۃ الخلیل : قلت: لا يجوز أكل السم بحال من الأحوال لأنه ضار بالجسم، والقاعدة المسلمة أن ‌أصل ‌كل ‌ما ‌يضر المنع، قالوا: كأكل السموم وأكل المحروق، علمًا بأنه تقدم حديث: "خَمْسٌ فَوَاسِقُ يُقْتَلْنَ فِي الْحِلِّ وَالْحَرَم". ولفظه عند أبي داود عن أبي هريرة: "خَمْسٌ قَتْلُهُنَّ حَلَالٌ فِي الْحَرَمِ: الْحَيَّةُ وَالْعَقْرَبُ وَالْحِدَأَةُ وَالْفَأْرَةُ وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ" .. ولو كانت الحية من الصيد المباح لم يبح قتلها لأن الله تعالى يقول: {لَا تَقْتُلُوا الصَّيْدَ وَأَنْتُمْ حُرُمٌ}. إلخ ( کتاب الاطعمۃ ، باب فی المباح، ج 2، ص 214، ط دار احیاء التراث العربی )-
و فی فقہ الاسلامی للزھیلی : فقد ذكر العلماء: إن المضِّرات من أشهر المحرمات، فمن ضررها أن آكلها يرتاح ويطرب وتطيب نفسه ويذهب حزنه، ثم يعتريه بعد ساعتين من أكله هموم متراكمة وغموم متزاحمة وسوء أخلاق. وكذلك حرمه الفقيه حمزة الناشري محتجاً بحديث أم سلمة السابق: أنه صلى الله عليه وسلم «‌نهى ‌عن ‌كل ‌مسكر ‌ومُفْتِر» وهو الذي يجعل في الجسم فتوراً، أي ضعفاً وانكساراً. والخلاصة: إن جميع المخدرات الحادثة من قرون بعد القرون الستة الأولى حرام كالخمر، لمخامرتها العقل وتغطيتها إياه. إلخ ( الاتجار بالمخدارت، ج 7، ص 5516، ط دار الفکر دمشق )-
و فی معجم اللغۃ العربیۃ المعاصرۃ: قيام الإنسان بقتل نفسه بوعيه أو بدون وعي، أو هو الفعل المقصود لقتل النفس أو زهق الرُّوح عن سابق تصميم "حاول ‌الانتحار- ميْل انتحاريّ" ° انتحار السَّحاب: انبعاقه مُصوِّتًا بالمطر اھ ( ج 3، ص 2176، ط عالم الکتب )-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
بشیر احمد جمعہ عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 80054کی تصدیق کریں
0     388
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • مجوسی اہل کتاب ہیں یا نہیں - کیا زرتشت آسمانی مذہب ہے ؟

    یونیکوڈ   خود کشی 0
  • یہود و نصاریٰ کو کافر نہ سمجھنا

    یونیکوڈ   خود کشی 1
  • خودکشی کرنے والے کے لئے دعائے مغفرت کاحکم

    یونیکوڈ   خود کشی 0
  • پرہیز نہ کرنے کی وجہ سے کیا انسان گناہ گار ہوگا ؟

    یونیکوڈ   خود کشی 0
  • قتل اور خودکشی والی مشتبہ موت مرنے والے کا جنازہ پڑھانے کا حکم

    یونیکوڈ   خود کشی 0
Related Topics متعلقه موضوعات