حدود و قصاص

زنا بالجبر کی صورت میں گناہگار ہونے نہ ہونے کی تفصیل

فتوی نمبر :
58915
| تاریخ :
1995-02-02
عقوبات / حدود و سزا / حدود و قصاص

زنا بالجبر کی صورت میں گناہگار ہونے نہ ہونے کی تفصیل

محترم جناب مفتی صاحب ایک سوال کے جواب میں آپ نے فرمایا تھا زنا بالجبر کی سزا کے سلسلہ میں، کہ جس کے ساتھ زنا بغیر مرضی کے کیا گیا اس پر کوئی سزا نہیں لیکن وہ بھی گنہگار ہوئی اور اللہ سے معافی مانگے۔مجھے یہ سمجھنے میں دقت ہورہی ہے کہ عورت کس طرح گنہگار ہوئی کیونکہ اس عمل میں نہ اس کی مرضی شامل اور روکنا اس کے بس میں نہ تھا، کیا آپ تفصیل بیان کریں گے کہ وہ کس طرح گناہ کی مرتکب ہوئی؟ کیا گناہِ کبیرہ یا صغیرہ یہ کس طرح کا گناہ ہے اور کیوں ہے؟
یا یہ صرف اس لئے ہے کہ وہ معافی مانگے کیونکہ اللہ تعالیٰ معافی مانگنے والے کو پسند کرتا ہے اور اس سے درجات بلند ہوتے ہیں، کیا رسول اللہ ﷺ کے دور کا کوئی واقعہ یا حکم یا خلفائے راشدین کا کوئی حکم ہے جس کے تحت وہ عورت گنہگار ہوئی ہے؟
اللہ میری لا علمی معاف فرمائے۔ جزاکم اللہ خیراً

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

زنا بالجبر کے حکم میں تفصیل ہے وہ یہ کہ مزنیہ کو اگر یقین یا گمانِ غالب ہو کہ اگر میں زنا نہیں کروں گی تو مجھے جان سے مار دیا جائے گا یا میرا کوئی عضو تلف کردیا جائے گا تو ایسی صورت میں مزنیہ پر نہ حد جاری ہوگی اور نہ وہ گنہگار ہوگی اور اگر مذکور خوف لاحق نہ ہو بلکہ صرف پٹائی لگنے یا قید وغیرہ کا خوف ہو تو ایسی صورت میں حد جاری نہ ہوگی البتہ عورت گنہگار ہوگی جس کی بناء پر صدقِ دل سے توبہ واستغفار لازم ہے، چنانچہ پہلے فتوے میں اسی صورت کے پیشِ نظر توبہ واستغفار کا حکم تحریر کیا گیا ہے جو قابلِ اشکال نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

فی الرد: أن الاکراہ لا یخرج الفعل عن کونہ زنا، وانما ہو عذر مسقط للحد وان لم یسقط الاثم کما یسقط القصاص بالاکراہ القتل دون الاثم۔ اھـ (ج۴، ص۱۹)-
وفی الهندية : والمرأۃ اذا اکرہت علی الزنا فلا حد علیہا والرجل آثم فی الاقدام علی الزنا لان الزنا من المظالم واما المرأۃ اذا کانت مکرہۃ علی الزنا تأثم ذکر شیخ الاسلام فی شرحہ فی باب الاکراہ علی الزنا أنہا ان اکرہت علی أن تمکن من نفسہا فمکنت فانہا تأثم وان لم تمکن ہی من الزنا وزنی بہا لا اثم علیہا وذکر ایضًا فی الاکراہ اذا اکرہت علی الزنا فمکنت من نفسہا فلا اثم علیہا وہذا کلہ اذا کان الاکراہ بوعید تلف فان کان الاکراہ بوعید سجن أو قید فعلی الرجل الحد بلا خلاف وأما المرأۃ فلا حد علیہا ولکنہا تأثم ولو امتنع المکرہ عن الزنا حتی قتل فہو مأجور۔ (ج۵، ص۴۸) واﷲ سبحانہ تعالیٰ اعلم

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 58915کی تصدیق کریں
0     1962
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • زنا بالجبر میں ڈی این اے ٹیسٹ - DNA Test - کے ثبوت کی حیثیت

    یونیکوڈ   اسکین   حدود و قصاص 0
  • زنا بالجبر کی صورت میں گناہگار ہونے نہ ہونے کی تفصیل

    یونیکوڈ   حدود و قصاص 0
  • قتلِ عمد میں مکرِہ (مجبور کنندہ)پر قصاص کا حکم

    یونیکوڈ   حدود و قصاص 0
  • کیا حضورؐ سے بذات خود کسی مجرم کو قتل کرنا یا ہاتھ کاٹنا ثابت ہے؟

    یونیکوڈ   حدود و قصاص 0
  • کیا حدود آرڈنینس میں تبدیلی کے مرتکب دائرۂ اسلام سے خارج شمار ہوں گے؟

    یونیکوڈ   حدود و قصاص 0
  • زانی کو از خود قتل کرنا

    یونیکوڈ   حدود و قصاص 0
  • کسی کے قتل کا بظاہر سبب بننے کی ایک صورت اور اس کا حکمِ شرعی

    یونیکوڈ   حدود و قصاص 0
  • قصاص سے متعلق شبہ اور اس کا جواب

    یونیکوڈ   حدود و قصاص 0
  • قتل عمد کی ایک صورت کا حکم

    یونیکوڈ   حدود و قصاص 1
  • آنکھ ضائع کرنے کی جنایت کا حکم

    یونیکوڈ   حدود و قصاص 0
  • مقتول کی دیت معاف کرنے کا اختیار کس کو ہے؟

    یونیکوڈ   حدود و قصاص 2
  • ڈپریشن کی وجہ سے بچہ کو قتل کرنے والی ماں کیلیے حکم

    یونیکوڈ   حدود و قصاص 0
  • چچا زاد بھائیوں کا اپنی چچا زاد بہن کو قتل کرنے کی صورت میں دیت کا حکم

    یونیکوڈ   حدود و قصاص 0
  • بیوی سے ہمبستری کرنے کی وجہ سے اگر بچہ ضائع ہو گیا تو کیا خاوند پر اس کی دیت آئے گی؟

    یونیکوڈ   حدود و قصاص 0
  • کسی کو قتل کرنا نجی معاملہ ہے یا حکومتی ؟

    یونیکوڈ   حدود و قصاص 0
Related Topics متعلقه موضوعات