کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اقامت میں تحویل الوجہ ہے یا نہیں، اگر ہے تو اس کا کیا حکم ہے؟
اذان میں تحویلِ وجہ مسنون اور سننِ اذان میں سے ہے جس کا اہتمام چاہیۓ جبکہ اقامت میں تحویل کے بارے میں اختلاف ہے، مگر فی زماننا عدمِ تحویل معمول بہ ہے اور ایسا ہی کرنا چاہیۓ۔
فی حاشية ابن عابدين: (قوله: ويلتفت) أي يحول وجهه لا صدره قهستاني، ولا قدميه نهر. (قوله: وكذا فيها مطلقا) أي في الإقامة سواء كان المحل متسعا أو لا. (إلی قوله) (قوله: بصلاة وفلاح) لف ونشر مرتب، يعني يلتفت فيهما يمينا بالصلاة ويسارا بالفلاح، وهو الأصح كما في القهستاني عن المنية، وهو الصحيح كما في البحر والتبيين. وقال مشايخ مرو: يمنة ويسرة في كل، كذا في القهستاني. (1/ 387)۔
وفی البحر الرائق: باب الأذان ویلتفت یمینا وشمالاً باالصلاة والفلاح (إلی قوله) لأنه سنة الاذان فلا یتركه (إلی قوله) وقدمنا عن الغنیة أنه یحول فی الإقامة أیضاً وفی السراج الوھاج لا یحول فیھا لاعلام الحاضرین بخلاف الأذان فانه اعلام للغائبین وقیل یحول إذا كان الموضع متسعاً اھ (۱/۲۵۸)۔