جماعت سے قبل جو تکبیر پڑھی جاتی ہے اس دوران امام اور مقتدیوں کا حضور پاک کے نام کی تعظیم میں بیٹھے رہنا کیسا ہے؟ ’’اشھد ان محمدا رسول اللہ‘‘ اور ’’حی علی الصلاۃ‘‘ پر کھڑے ہونا ، ہمیں کیا طریقہ اختیار کرنا چاہیے؟
واضح ہو کہ شریعتِ مطہرہ نے ہر عمل کے آداب اور طریقے خود ہی تعلیم فرمائے ہیں اور اس کی تکمیل آپ ﷺ کی حیاتِ مبارکہ میں ہو چکی تھی اور خیر القرون میں اس پر عمل درآمد بھی ہو چکا تھا، بعد والوں کے لیے کچھ بھی نہیں چھوڑا گیا ، اس لیے دین میں اپنی طرف سے کوئی طریقہ نکال کر اس پر کار بند ہونا درست نہیں، اس سے احتراز چاہیے۔
اس کے بعد واضح ہو کہ دورانِ تکبیر لوگوں کو’’اشھد ان محمدا رسول اللہ‘‘ تک بیٹھنے کا حکم دینا اور پھر اپنے مخصوص طرزِعمل کو عظمتِ رسول کا لبادہ اڑھا کر اسے مسنون قرار دیناقطعاًغلط اور خلافِ شریعت ہے جو بے دلیل ہونے کی وجہ سے دین میں زیادتی اور بدعت کے مترادف ہے جس سے احتراز لازم ہے، البتہ تکبیر کے وقت ابتداءً کھڑا ہونا یا بقول بعض فقہاء کے کسی خاص صورت میں ’’حی علی الصلاۃ‘‘پر کھڑے ہونا ہر دو صورتوں کے موافق عمل کرنے کی گنجائش ہے۔
ففی عمدة القاري: فذهب مالك وجمهور العلماء إلى أنه ليس لقيامهم حد، ولكن استحب عامتهم القيام إذا أخذ المؤذن في الإقامة اھ(5/ 153)۔
وفی البدائع: لأن القیام لأجل الصلاة ولایمکن ادائها بدون الإمام فلم یکن القیام مفیداً ثم ان دخل الإمام من قدام الصفوف فکما راوہ قاموا لأنه کما دخل المسجد قام مقام الإمامة وإن دخل من وراء الصفوف فانه کلما جاوز صفاً قام ذلك الصف لأنه صار بمالو اقتدوا به جاز فصار فی حقهم کانه أخذ مکانه اھ (۱/۲۰۰)۔