کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ:
جو لوگ ہر کام سنت کے خلاف کرتے ہیں، یعنی بدعت کرتے ہیں، جیسے تیجے، چالیسویں، عرس منانا ،خطاب کے صیغے کا استعمال وغیرہ کرنا اور پھر نماز کے وقت مسجد میں اقامت بھی کرتے ہیں، تو کیا اس شخص کی اقامت یا اذان قبول ہوتی ہے کہ نہیں؟ مہربانی فرماکر اس مسئلہ کی وضاحت قرآن و حدیث کی روشنی میں فرمائیں! شکریہ!
اقامت کیلئے بہتر تو یہی ہے کہ، اقامت وہی شخص کہے جس نے اذان دی ہے، اگر مؤذن موجود نہ ہو ،تو اس صورت میں کسی ایسے شخص کو اقامت کہنی چاہیئے، جو نیک صالح اور باشرع ہو، کسی مبتدع اور فاسق شخص کو حتی الامکان اقامت کہنے سے احتراز کرنا چاہیئے، اس لئے کہ فاسق کی اقامت بھی مکروہ ہے۔
ففی الدر المختار: ویکرہ اذان جنب واقامته واقامة محدث لا اذانه علی المذہب، واذان امرأۃ وخنثی وفاسق ولو عالمًا اھـ (٣٩٢/١)
وفی العالمگیریة: والإقامة مثل الأذان ان فی کونه سنۃ للفرائض( إلٰی قوله) وینبغی أن یکون المؤذن رجلا عاقلا صالحا تقیًّا عالما بالسنة اھـ (٥٣/١) واﷲ اعلم!