کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ، ایک شخص داڑھی کترواتا ہے اور چھوٹی کرتا ہے، جب کہ وہ حافظِ قرآن ہے، اب اس کا کہنا ہے کہ رمضان تک بالکل نہیں کٹواؤں گا، اگر وہ رمضان تک داڑھی چھوٹی نہ کرائے، تو خاصی بڑی ہوجائے گی، تو کیا اس کے پیچھے تراویح پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟
نوٹ: اس شخص کے بارے میں رمضان کے بعد داڑھی نہ کتروانے کی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔
صورتِ مسئولہ میں مذکور شخص اگر واقعۃً رمضان المبارک تک داڑھی نہ کٹوائے، اور اپنے اس فعلِ قبیح سے توبہ واستغفار بھی کرلے، اور آئندہ کے لئے بھی اس فعل سے احتراز کرے، تو ایسے شخص کی اقتداء میں فرض نماز اور تراویح دونوں جائز اور درست ہیں۔
اور اگر وہ شخص اس فعل سے باز نہ آئے، اور آئندہ بھی اس فعل کا مرتکب رہے، جیسا کہ سوال میں مذکور اس کے کلام ’’رمضان تک بالکل نہیں کٹواؤں گا‘‘ سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ، اس کا داڑھی چھوڑنا فقط رمضان کی خاطر ہے، مستقل داڑھی رکھنے کا ارادہ نہیں، تو ایسی صورت میں شخصِ مذکور کے بجائے کسی دوسرے متبع شریعت، متقی اور پرہیزگار کی اقتداء میں تراویح ادا کرنا زیادہ بہتر اور افضل ہے۔
ففی الشامیة: واما الفاسق فقد عللوا کراہة تقدیمه بانه لا یہتم لأمر دینه، وبأن فی تقدیمه للامامة تعظیمه، وقد وجب علیہم إھانته شرعًا الخ (560/1)…… واﷲ اعلم!
جاننے والے اور نا جاننے والے برابر ہیں؟ علم میں بخل ,حسد و غرور کرنا, بغير استاد تحصيل علم
یونیکوڈ مکروھات نماز 0