السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! میں یہ معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ ۔۔۔ کی املامک مارکیٹ میں حصے خرید کر اپنے مال کو ایک سرمایہ میں لگانا (انویسٹمنٹ) جائز ہے کہ نہیں؟ جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ ان کمپنیوں کےمعاملات جائز تو ہیں،مگر وہ ربا کیساتھ معاملہ کرتی ہیں۔
اگر کمپنی کا بنیادی کاروبار مجموعی طور پر حلال ہے تو پھر دو شرطوں کے ساتھ اس کمپنی کے شیرز خریدنے کی گنجائش ہے، پہلی شرط یہ ہے کہ وہ شیر ہولڈر اس کمپنی کے اندر سودی کاروبار کے خلاف آواز اُٹھائے، اگر چہ اس کی آواز مسترد ہوجائے، اس کا سب سے بہترین طریقہ یہ ہے کہ کمپنی کی جو سالانہ میٹنگ ہوتی ہے، اس میں آواز اٹھائے کہ ہم سودی لین دین کو درست نہیں سمجھتے اور سودی لین دین پر راضی نہیں ہیں، اس لئے اس کو بند کیا جائے، دوسری شرط یہ ہے کہ جب منافع تقسیم ہوں تو شیئر ہولڈر ان ،اسٹیٹ منٹ کے ذریعے معلوم کرے کہ آمدنی کا کتنے فیصد حصہ سودی ڈیپازٹ سے حاصل ہوا ہے، اس تناسب سے اپنے نفع میں سے صدقہ کرے۔
کما فی البدائع: كل شيء أفسده الحرام، والغالب عليه الحلال فلا بأس ببيعه " الخ (5/144)۔
و فی الھندیۃ: أهدى إلى رجل شيئا أو أضافه إن كان غالب ماله من الحلال فلا بأس إلا أن يعلم بأنه حرام، فإن كان الغالب هو الحرام(الی قولہ) إلا إذا علم أن أكثر ماله حلال بأن كان صاحب تجارة أو زرع فلا بأس به؛ لأن أموال الناس لا تخلو عن قليل حرام الخ (5/342)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1