السلام علیکم و رحمۃ اللہ و بر کاتہ!
میں اس بات کی تحقیق کرنا چاہتا ہوں کہ اسلامی بینکنگ کے بارے میں جو فتویٰ ہے ، پاکستان کے چار سو علما ء نے دیا، اگست 2008 میں ، میں نے مفتی تقی عثمانی صاحب کا ایک خط ویب سائٹ پر دیکھا تھا، جو اس کے متعلق تھا، اس بات کی اصل حقیقت کیا ہے ؟کیا ہم اسلامی بینک کی تصدیق کریں یا نہیں ؟
۲۔ اور میرا دوسرا سوال یہ ہے کہ جو شوال کے چھ روزے ہیں مفتی زرولی خان صاحب کہتے ہیں کہ حدیث میں ہے، لیکن صحابہ کا تعامل اس پر نہیں ہے ۔ تو وہ شوال کے ان چھ روزوں کو بدعت مانتے ہیں، مجھے آپ کی راہ نمائی چاہیئے۔
(1) علمائے کرام کے مذکور فقہی اور علمی اختلاف میں فریق بننے کی بجائے احتیاط اسی میں ہے کہ ان اسلامی بینکوں سے معاملات کرتے وقت ان معاملات کی پوری تفصیل معلوم کرکے کسی دارالافتاءسے اس کا حکم معلوم کیا جائے، اور اسی کے مطابق عمل کیا جائے۔
(2) شوال کے چھ روزوں کی فضیلت احادیث سے ثابت ہے، اور فقہ کی کتبِ معتبرہ میں اس کی فضیلت مذکور ہے، لہذا ان روزوں کا رکھنا مستحب اور باعثِ اجر و ثواب ہے، ہاں! اگر اسے واجب کی طرح لازم کر لیا جائے اور جو نہ رکھے اُسے حقارت کی نگاہ سے دیکھا جانے لگے تو یہ مستحب امر بھی بدعت اور واجب الترک ہو جائے گا۔
کمافي صحيح مسلم: عن أبي أيوب الأنصاري رضي الله عنه أنه حدثه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال * من صام رمضان ثم أتبعه ستا من شوال كان كصيام الدهر (2/ 822)۔
وفي اعلاء السنن: بعد ذكر قول الطحطاوي قلت : الكراهة محمولة على احتمال سوء العقيدة لئلا يظن أنها من الفرائض لاتصالها برمضان اھ (۹/ ۱۵۳)۔
وفي حاشية ابن عابدين: إن صوم الستة بعد الفطر متتابعة منهم من كرهه والمختار أنه لا بأس اھ (2/ 435)۔