السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ !
بخدمت جناب مفتی صاحب! عرض یہ ہے کے میری اہلیہ کی خالہ نے کسی سے بیٹا لیا ہے اور میری بیٹی آٹھ مہینے کی ہے ، میری اہلیہ کی خالہ کہہ رہی ہے کہ اس بیٹے کو اپنا دودھ پلا دے تاکہ وہ بچہ ان کے لئے محرم ہو جائے، مگر آج کل کے حالات سب آپ کے سامنے ہے اور میرے سسرال والے تھوڑے ماڈرن ہیں، اس وجہ سے میرا دل نہیں مان رہا اس مسئلہ میں شریعت کا کیا حکم ہے ؟ جزاک اللہ خیر
سوال میں مذکور خالہ کی کسی بہن وغیرہ کا دودھ آرہاہو تو اس کو چاہیئے کہ اپنی اس بہن سے ہی دودھ پلوالے تو بھی بچہ اس کے لئے محرم بن جائے گا، البتہ اگر کسی بہن وغیرہ کے دودھ نہ آتاہو تو سائل کی اہلیہ کے دودھ پلانے سے بھی بچہ مذکور خالہ کیلئے محرم بن جائے گا، جبکہ رضاعت میں پیٹ بھر کر دودھ پلانا لازم نہیں ہے، بلکہ بچہ اگر ایک دو قطرہ بھی پی لے تو رضاعت ثابت ہونے کی وجہ سے مذکور بچہ خالہ کے لئے محرم ہوجائے گا ،سائل کو اس معاملہ میں مذکور خالہ کے ساتھ معاونت کرنی چاہیئے -
جس بچے نے کسی عورت کا دودھ پیا ہے تو اس کی دیگر اولاد کے ساتھ بچے کے بہن بھائیوں کے نکاح کا حکم
یونیکوڈ رضاعت 0