ایک عورت ایک بچے کو اپنا پستان اس کے منہ میں دینے کے بعد اس خدشہ اور ڈر سے نکال دیتی ہے کہ کہیں رضاعت ثابت نہ ہوجائے عورت یقین سے یہ کہتی ہے کہ بچے نے چسکی نہیں لگائی اور دودھ نہیں پیا ، صرف پستان منہ میں دیا ہے ، اب صورتِ مذکورہ میں ایک عورت کی گواہی عدمِ رضاعت کے ثابت ہونے پر تسلیم کی جائے گی یا احتیاط کے طور پر رضاعت ثابت ہونے کا حکم دیا جائے گا ؟
اگر واقعۃً بچے نے چُسکی نہیں لگائی بلکہ صرف منہ میں پستان لیا ہے اور فوراً نکال دیا گیا تو اس صورت میں حرمت رضاعت ثابت نہیں ہوئی۔
فی البحر : (الرضاع) و ھو مص الرضیع من الآدمیۃ۔ فی القنیۃ امرأۃ کانت تعطی ثدیھا صبیۃ و اشتھر ذٰلک ثم تقول لم یکن فی ثدی لبن حین القمتہا تدین و لا یعلم ذلک الامر الا من جہتہا جاز لابنھا ان یتزوج بھذہ الصبیۃ۔(ج۳، ص۲۲۲)۔
جس بچے نے کسی عورت کا دودھ پیا ہے تو اس کی دیگر اولاد کے ساتھ بچے کے بہن بھائیوں کے نکاح کا حکم
یونیکوڈ رضاعت 0