السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ !
میرا یہ سوال ہے کہ میرے کزن نے ایک بار میری ماں کا دودھ پیا تھا، بس ایک بار ، وہ بھی مجبوری میں، اب وہ رشتہ مانگنے آرہا ہے، کیا یہ نکاح جائز ہے یا نہیں؟ اس بارے میں معلومات چاہیئے تھی، براہِ مہربانی جلدی جواب دیجئے، بہت ضرورت ہیں۔
صورتِ مسئولہ میں سائلہ کے کزن نے اگر مدت رضاعت میں سائلہ کی والدہ کا دودھ پیا ہو، تو اس کی وجہ سے وہ سائلہ کی والدہ کا رضاعی بیٹا اور سائلہ سمیت تمام بہن بھائیوں کا رضاعی بھائی بن چکا ہے، اور جس طرح حقیقی بھائی کے ساتھ نکاح جائز نہیں اسی طرح رضاعی بھائی کےساتھ بھی نکاح شرعاً جائز نہیں ہوتا ہے، لہذا سائلہ سمیت اس کی کسی بھی بہن کے ساتھ مذکور کزن کا نکاح شرعاً نا جائز وحرام ہے، جس سے احتراز لازم ہے۔
کما فی الفتاوی الھندیۃ: يحرم على الرضيع أبواه من الرضاع وأصولهما وفروعهما من النسب والرضاع جميعا حتى أن المرضعة لو ولدت من هذا الرجل أو غيره قبل هذا الإرضاع أو بعده أو أرضعت رضيعا أو ولد لهذا الرجل من غير هذه المرأة قبل هذا الإرضاع أو بعده أو أرضعت امرأة من لبنه رضيعا فالكل إخوة الرضيع وأخواته وأولادهم أولاد إخوته وأخواته وأخو الرجل عمه وأخته عمته وأخو المرضعة خاله وأختها خالته وكذا في الجد والجدة الخ 343/1 کتاب الرضاع ط ماجدیہ)۔
وفی الدرالمختار: (فيحرم منه) أي بسببه (ما يحرم من النسب) رواه الشيخان،الخ 213/3 باب الرضاع ط سعید)۔
جس بچے نے کسی عورت کا دودھ پیا ہے تو اس کی دیگر اولاد کے ساتھ بچے کے بہن بھائیوں کے نکاح کا حکم
یونیکوڈ رضاعت 0