کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرا نام حمیدن ہے،اور میرے والد کا انتقال ہو چکا ہے، جب ہم نے حیدر آباد کا پلاٹ بیچا تو ہم لوگ بہت پریشان تھے، تو میرے والد صاحب خواب میں آئے، خواب میں میرے والد صاحب کیساتھ میری دادی جو کہ انتقال کر گئی ہے اور میری والدہ جو کہ حیات ہے، ہم چاروں پہلے پہاڑوں پر چڑھے تو والد صاحب ہمیں پلاٹ دکھانے کیلۓ لے گئے تو ان پلاٹوں کے ایک طرف بہت آبادی ہےاور دوسری طرف آبادی نہیں ہے، اور پلاٹوں کی جس طرف آبادی نہیں ہے اس طرف ایک چھوٹی سی نہر جاری ہے،جس نہر کے کنارے پر چار آدمی بیٹھے باتیں کر رہے ہیں، والد صاحب نے جب ہمیں پلاٹ دکھا دیئے تو پھر ہم میری ساس جو کہ میری پھوپھی بھی ہے، ان کے گھر جاتے ہیں، ان کے گھر کے سامنے بہت زیادہ گندگی ہے، اس کے والد صاحب نے کہا کہ میری نماز کا وقت ہو گیا ہے، میں جارہا ہوں، اس کےبعد میں آؤں گا، تمہیں پلاٹ دلانے کیلۓ ، اگر میں نہ آؤں، تو تم ایسا گھر خریدنا جس کے دونوں طرف راستہ ہو تا کہ میت وغیرہ کے نکالنے میں پریشانی نہ ہو ، یہ خواب تھا۔
اس کے بعد ہم نے کراچی میں پلاٹ لیے جن کے دونوں طرف راستہ ہے، جیسا کہ والد صاحب نے خواب میں بتلایا تھا، پھر تقریباً سات، آٹھ سال کے بعد کچھ پریشانی کے باعث ایک پلاٹ بیچنے کی بات ہوئی تو پھر مجھے والد صاحب دوبارہ خواب میں نظر آئے، جو کہ میرے پھوپھا کے گھر میں تھے اور پھوپھا نے اس کا سر پھاڑ دیا تو والد صاحب نے مجھ سے کوئی بات نہیں کی اور بغیر کچھ بولے واپس چلے گئے، تو میں نے اپنے شوہر سے کہا کہ یہ پلاٹ نہ بیچو، لیکن میرے شوہر نے اس کی رقم لے لی، لیکن گھر ابھی تک ہمارے قبضے میں ہے، اس کے بعد میرے شوہر بھی اس بات پر راضی ہوگئے کہ پلاٹ نہیں بیچنا ہے تو اب ہم اس معاملے میں کیا کریں گے؟ گھر اپنے پاس رکھیں اور رقم لوٹا دیں یا پھر ہم ان کو وہ پلاٹ دے دیں؟
نیز جب میں نے اپنے شوہر کو منع کیا اور اس کے باوجود بھی انہوں نے رقم لے لی تو پھر میرے بڑے بیٹے کیساتھ یہ حادثہ پیش آیا کہ کام کر رہا تھا تو ان کے اوپر چھت گر گئی اور ان کو اتنا زیادہ چوٹیں آئیں کہ جن پر تقریباً دو لاکھ تک کا خرچہ ہوا، جب یہ حادثہ پیش آیا تو میرے شوہر پلاٹ نہ بیچنے پر راضی ہوگئے۔
جاننا چاہیے کہ خواب کوئی حجتِ شرعیہ نہیں کہ اس کے موافق عمل کرنے کو لازم اور واجب قرار دیاجائے، بلکہ اس کے خلاف بھی عمل کرنے کی گنجائش ہے ، تا ہم جب آپ کے شوہر نے اس پلاٹ کے بیچنے کا ارادہ ترک کر دیا ہے تو شرعاً اس کی بھی گنجائش ہے، اگرچہ یہ لازم نہیں ، اور بچے کا مذکور حادثہ ایک تقدیری عمل ہے، اس کا خواب سے کوئی تعلق نہیں، اس لیے بلاوجہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ و اللہ أعلم بالصواب!
فی مرقاة المصابیح : عن ابی هريرة قال قال رسول اللہ -صلی اللہ علی و سلم- إذا قرب الزمان لم تكد رؤيا الرجل المسلم تكذب و أصدقهم رؤيا أصدقهم حديثا كذا في الجامع و رؤيا المؤمن جزء من ستة و أربعين جزاء من النبوة (الی قوله) و بشرى من الله أي إشارة إلى بشارة من الله تعالى للرائي أو المرئي له ، في شرح السنة : فيه بيان أن ليس كل ما يراه الإنسان في منامه يكون صحيحا اھ( 8/ 386)۔
رسول اللہؐ کا خواب میں کہنا کہ ’’فلاں درست ہے، لیکن اس سے کہیں کہ اپنا عقیدہ درست کرے‘‘
یونیکوڈ خواب وتعبیر 0خواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرات شیخین کو دیکھنا اور ان کے ساتھ جہاد کرنے کی تعبیر
یونیکوڈ خواب وتعبیر 0خواب میں خانہ کعبہ کے اندر حضورﷺ کے روضہ مبارک کے پاس بیٹھ کر دعا مانگنے کی تعبیر
یونیکوڈ خواب وتعبیر 0