کیا فرماتے مفتیانِ کرام درجِ ذیل مسائل کے بارے میں کہ :
۱۔ سورۃ حجرات کی آیت ’’یا ایہا الذین آمنوا لاترفعوا اصواتکم الخ‘‘ پر عمل کرنے کرانے کے باوجود ، بذریعہ اسپیکر اذان پڑھنے میں اشکال پیدا ہوتا ہے کہ رحمۃ للعالمین کی آواز مبارکہ سے آواز بلند ہونے کا احتمال ہے۔
۲۔ آپ کی حیا ت طیبہ میں نماز فجر کی اذان میں ’’الصلوٰۃ خیر من النوم ‘‘کا ثبوت ہےیا نہیں؟
۳۔ ’’الصلوٰۃ خیر من النوم ‘‘ کا وقت کب شروع ہوتا ہے؟
آیت کا یہ مطلب نہیں کہ مطلقاً کسی بھی موقع پر آواز بلند نہ کی جائے ، اور پھر اذان چونکہ اعلان ہے جس کا باآواز ِبلند ہونا ضروری اور شرعاً مطلوب ہے ، یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی موجودگی اور زمانہ مبارکہ میں اذان کا عمل بلند آواز والے ہی کے سپرد تھا۔
۲۔ ’’الصلوۃ خیرمن النوم‘‘ اذان فجر کے دوران ’’حی علی الفلاح‘‘ کے بعد پڑھا جاتا ہے اور اس کا ثبوت درجِ ذیل احادیث مبارکہ سے ملتا ہے۔
و فی نیل الأوطار : و عن أبي محذورة قال : ( قلت يا رسول الله علمني سنة الأذان فعلمه و قال : فإن كان صلاة الصبح قلت الصلاة خير من النوم الصلاة خير من النوم الله أكبر الله أكبر لا إله إلا الله ) - رواه أحمد وأبو داود
ففی اعلاء السنن : عن عائشة - رضی اللہ عنھا - قالت ’’جاء بلال إلی النبی - صلی اللہ علیه و سلم - یؤذنه بصلاة الصبح فوجدہ نائماً فقال الصلوٰۃ خیر من النوم فأقرت فی أذان الصبح‘‘۔ رواہ الطبرانی فی الأوسط اھ ( ۲/ ۹۹)۔