ہم نے آبائی قبرستان کے لئے جگہ وقف کی ہے،ابھی تک قبرستان میں دو قبریں موجود ہیں،ہمارا ارادہ ہے کہ قبرستان کے اوپر مسجد بنا لیں،کیا قبرستان کے اوپر مسجد بنا سکتے ہیں یا نہیں؟ رہنمائی فرمائیں۔
واضح ہوکہ جو جگہ جس مقصد کے لئے وقف کی گئی ہو، اسے اسی مقصد کے لئے استعمال کرنا لازم اور ضروری ہے، لہذا مذکور جگہ چونکہ قبرستان کے لئے وقف کی گئی ہے، اس لئے اس جگہ کو قبرستان کے لئے استعمال کرنا لازم اور ضروری ہے،البتہ اگر مذکور قبرستان میں موجود قبریں بوسیدہ ہوچکی ہوں اور وہاں مزید مردے دفن کرنے کی ضرورت باقی نہ ہو، تو ایسی صورت میں اہلِ علاقہ کی مشاورت اور اتفاق سے وہاں مسجد تعمیر کرنے کی گنجائش ہے۔
کمافی عمدة القاری: فإن قلت: هل يجوز أن تبنى على قبور المسلمين؟ قلت: قال ابن القاسم: لو أن مقبرة من مقابر المسلمين عفت فبنى قوم عليها مسجدا لم أر بذلك بأسا، وذلك لأن المقابر وقف من أوقاف المسلمين لدفن موتاهم لا يجوز لأحد أن يملكها، فإذا درست واستغنى عن الدفن فيها جاز صرفها إلى المسجد، لأن المسجد أيضا وقف من أوقاف المسلمين لا يجوز تملكه لأحد اھ(4/179)۔
وفي الھندیة: ولو بلی المیت وصار ترابا جاز دفن غیرہ في قبرہ وزرعه والبناء علیه،کذا فی التبیین اھ(1/167)۔