السلام علیکم
ہم لوگوں نے ایک جگہ مسجد کی نیت سے بنائی ہے،لیکن وہاں ابھی جماعت نہیں ہوسکتی عام لوگوں کے لئے،سوال یہ ہے کہ مسجد کی ابتداء کے لئے کچھ خاص کرنا ہوتا ہے، ہم مسجد کیسےشروع؟اور کیا کیا کرنا ہوگا؟
واضح ہوکہ مسجد کو وقف اور مسجدِ شرعی بنانے کیلئے اس کو اپنی ملکیت سے مکمل طور پر اس طرح جدا کرنا کہ جس سے کسی شخص کا کوئی ملکیتی مفاد وابستہ نہ ہو،لازم اور ضروری ہے، لہذا مسجد کو اس کے راستے کے ساتھ اپنی ملکیت سے جدا کرنے کے بعد ابتداء اس طرح کی جائے کہ لوگوں کو اس میں نماز پڑھنے کی عام اجازت دے دی جائے،چنانچہ اس طرح کرنے کے بعد جب لوگ اس میں اذان واقامت کے ساتھ نماز پڑھنا شروع کردیں، تو وہ مسجدِ شرعی بن جائے گی۔
کما فی الدر المختار: (ويزول ملكه عن المسجد والمصلى) بالفعل و (بقوله جعلته مسجدا) عند الثاني (وشرط محمد) والإمام (الصلاة فيه) بجماعة وقيل: يكفي واحد وجعله في الخانية ظاهر الرواية الخ
وفی رد المحتار: لكن عنده لا بد من إفرازه بطريقہ ففي النهر عن القنية جعل وسط داره مسجدا وأذن للناس بالدخول والصلاة فيه إن شرط معه الطريق صار مسجدا في قولهم جميعا وإلا فلا عند أبي حنيفة، وقالا يصير مسجدا ويصير الطريق من حقه من غير شرط كما لو آجر أرضه ولم يشترط الطريق اهـ وفي القهستاني ولا بد من إفرازه أي تمييزه عن ملكه من جميع الوجوه فلو كان العلو مسجدا والسفل حوانيت أو بالعكس لا يزول ملكه لتعلق حق العبد به كما في الكافي (الیٰ قوله)وفي الدر المنتقى وقدم في التنوير والدرر والوقاية وغيرها قول أبي يوسف وعلمت أرجحيته في الوقف والقضاء اهـ (4/356)۔