السلام علیکم !
مفتی صاحب عاجزانہ گزارش ہے کہ ہمارے معاشرے کا کوئی فرد اپنی 7 فیصد زمین مسجدوں اور قبرستانوں کے لئے وقف کے طور پر دیدے،ہمارا معاشرہ بہت بڑا ہے،ایک مسجد ہے،کیونکہ وہ دور ہے تو اس جگہ پر مسجد بنانے کی ضرورت تھی، اس لئے وہاں مسجد بنانے کا اقدام کیا گیا،لیکن جگہ کی کمی کی وجہ سے مسجد کے لئے مختص جگہ کے نصف حصے میں مسجد بنانا مشکل ہوگیا، ایک اور بات ! چونکہ ہماری سوسائٹی کے ساتھ ہی 7سوسائٹیوں کا ایک بڑا قبرستان ہے، اس لئے اس جگہ تدفین کی ضرورت نہیں،چنانچہ فیصلہ ہوا کہ پوری جگہ ایک مسجد بنائی جائے گی، بعد میں اس پوری جگہ پر مسجد بنائی گئی،جو ابھی تک موجود ہے، لہذا جاننے والی بات یہ ہے کہ کیا اس طرح قبرستان کے لئے وقف زمین لینا اور وہاں مسجد بنانا جائز ہوگا؟ اور جگہ کی کمی اور مڑے ہوئے کی وجہ سے آدھی جگہ پر مسجد بنانا مشکل ہے اور قبرستان کی ضرورت بھی نہیں ہے، تو ہمیں کیا کرنا چاہیئے تھا اور اب کیا کرنا چاہیئے؟ یا اب اگر مسجد کے پیسے سے قبرستان کے مستحق حصے کی مقدار خرید لی جائے اور اسے الگ قبرستان یا پہلے بنائے گئے،قبرستان کو دے دی جائے تو کیا یہ صحیح ہوگا یا کوئی اور صورت ہے؟ براہِ کرم مجھے بتائیں۔
صورتِ مسئولہ میں اگر واقف نے مذکور قطعۂ زمین مسجد اور قبرستان دونوں کے لئے وقف کی ہو،لیکن قبرستان سے زیادہ مسجد کی ضرورت ہونے کی بناء پر مذکور ساری زمین واقف کی اجازت سے مسجد کیلئے مختص کر دی گئی ہو تو ایسا کرنا درست ہے، البتہ مسجد بن جانے کے بعد اس کی آمدنی سے قبرستان کے لئے جگہ خریدنا یا پہلے سے موجود قبرستان میں مسجد کی رقم خرچ کرنا درست نہیں، جس سے احتراز لازم ہے ، تاہم اہلِ محلہ کو چاہیئے کہ بوقتِ ضرورت آپس میں پیسے ملا کر قبرستان کے لئے جگہ خریدیں،لیکن مسجد کی رقم استعمال کرنے سے احترازکریں۔
کمافی بدائع الصنائع: الوقف اخراج المال عن الملك علیٰ وجه الصدقة فلایصح بدون التسلیم کسائر التصرفات اھ(5/328)۔
وفی رد المحتار: لایجوز نقله ونقل ماله الیٰ مسجد آخر سواء کانوا یصلون فیه اولا اھ(4/358)۔
وفی التاتارخانیة: وعند محمد لایزول ملك الواقف إلا بالتسلیم إلیٰ المتولی أو إلیٰ الموقوف علیه حتیٰ ان علی قوله لولم یسلم الوقف إلیٰ المتولی لایزول ملکه فله ان یرجع في ذلك وإذا مات یورث عنه اھ(8/10)۔